Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - زبانی طلاق پہلے اور تحریری بعد میں‌ دی گئی تو عدت کب سے شمار ہوگی؟

زبانی طلاق پہلے اور تحریری بعد میں‌ دی گئی تو عدت کب سے شمار ہوگی؟

موضوع: طلاق   |  مطلقہ (طلاق یافتہ) کی عدت

سوال پوچھنے والے کا نام: ملک حشمت خان       مقام: پاکستان

سوال نمبر 5436:
بیوی ایک سال سے شوہر سے الگ رہ رہی تھی۔ شوہر زبانی طلاق دے چکا تھا لیکن تحریری طلاق کا معاملہ اخراجات کے تعین اور مہر کی ادائیگی کی وجہ سے رکا رہا۔ ایک ماہ پہلے تحریری طلاق دی گئی۔ طلاق لکھتے وقت شوہر نے موجود افراد کے سامنے کہا کہ میں اسے چھ ماہ پہلے ہی فارغ کر چکا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ عدت کا شمار کب سے ہو گی؟ زبانی طلاق سے یا تحریری طلاق سے؟ جزاک اللہ

جواب:

عدت کا شمار اولین طلاق سے ہوگا خواہ وہ زبانی تھی، تحریری تھی، صریح تھی یا کنایتاً تھی‘ کیونکہ جونہی طلاق دی جاتی ہے عدت اسی لمحے سے شروع ہو جاتی ہے۔ اس لیے مذکورہ مسئلہ میں‌ بھی جس دن شوہر نے زبانی طلاق دی تھی بیوی اسی دن سے عدت شمار کرے۔ دستاویزات کی تیاری قانونی تقاضا ہے‘ شرعاً عدت کا حکم وہی ہے جو بتا دیا گیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-06-24


Your Comments