لیکوریا کی مريضہ کے لیے طہارت و نماز کے کیا احکام ہیں؟

سوال نمبر:5298
السلام علیکم! لیکوریا کی مریضہ کے لیے طہارت و نماز کے کیا احکام ہیں؟

  • سائل: ساجد اقبالمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 26 مارچ 2019ء

زمرہ: احکامِ طہارت و صلوٰۃ برائے معذور

جواب:

لیکوریا کے مرض میں مبتلا عورت کے رحم سے اگر سیال مادہ مسلسل رِستا رہتا ہے اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اتنی ساعت (مثلاً پانچ منٹ) بھی میسر نہیں آتی جس میں پاکی مل جائے تو ایسی عورت معذور شمار ہوگی اور اس کے احکام مریض کے ہوں گے۔ اس لیے لیکوریا کی مریضہ نماز کے لیے وضوء کرے اور نماز ادا کرلے، دورانِ نماز بھی اگر سیال مادہ بہتا رہے تب بھی وضوء قائم رہے گا، کیونکہ وہ معذور ہے۔ لباس کی پاکی کے لیے پیڈ یا اندرونی کپڑا استعمال کرے اور ہر نماز کے لیے وضوء کرنے سے پہلے اچھی طرح استنجا کر کے پیڈ یا اندرونی کپڑا تبدیل کرلے اور وضوء کر کے نماز ادا کرے۔ لیکوریا اور سلسلِ بول کے مریضوں کے لیے ایک ہی طرح کا حکم ہے کہ وہ مسلسل جاری رہنے والے پیشاب یا لیکوریا کے قطروں سے لباس کو محفوظ رکھنے کےلیے پیڈ یا کپڑا وغیرہ باندھ کر اور وضوء کرکے نماز ادا کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟