تشہد میں‌ انگشتِ شہادت اٹھانے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5276
السلام علیکم! تشہد میں ’اشھد ان لا الہ الاّ اللہ‘ پر انگشت شہادت اٹھانے سے مجدد الف ثانی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے منع فرمایا۔ اہل سنت کی اکثریت اس پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وضاحت کریں۔

  • سائل: نوراللہ خان کاظمیمقام: لیہ
  • تاریخ اشاعت: 12 مارچ 2019ء

زمرہ: نماز کی سنتیں

جواب:

نماز میں تشہد کے دوران کلماتِ شہادت ادا کرتے ہوئے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت اٹھانے کو ’رَفْع سَبَّابَة‘ کہتے ہیں۔ یہ عمل اہل سنت کے فقہاء و علماء کے نزدیک مسنون ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ تاہم رفع سبّابۃ کی مختلف صورتیں مذکور ہیں۔ علمائے احناف کے نزدیک اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ نمازی اَشْهَدُ اَن لَّا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ کی ادائیگی کرتے ہوئے لَا پر دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی اٹھائے اور لفظ اِلَّا پر رکھ دے۔ لاَ اِلٰه پڑھتے وقت انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنا کر اور چھوٹی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی کو بند کر کے لفظ لَا پر شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے اور لفظ اِلاَّ ﷲُ پڑھتے وقت شہادت کی انگلی کو نیچے رکھ دے اور بار بار نہ ہلائے۔

حضرت نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ» يَعْنِي السَّبَّابَةَ.

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دوران نماز (تشہد میں) بیٹھتے تو ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی (شہادت والی) انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔ اپنی نظر بھی اسی انگلی پر رکھتے۔ پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’یہ شہادت والی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی سخت پڑتی ہے۔‘

أحمد بن حنبل، المسند، 2: 119، رقم: 600، مصر: مؤسسة قرطبة

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا، وَلَا يُحَرِّكُهَا».

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ کو (توحید کے ساتھ) پکارتے تو انگلی مبارک سے اشارہ کرتے اور انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔

  1. أبوداود، السنن، كتاب الصلاة، باب الإشارة في التشهد، 1: 260، رقم: 989، بيروت: دارالفكر
  2. نسائي، السنن، كتاب صفة الصلاة، بسط اليسرى على الركبة، 1: 376، رقم: 1193، بيروت: دار الكتب العلمية

درج بالا احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ رفع السبابہ سنت ہے اور اس کا مسنون طریقہ وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔

کچھ حضرات کے ہاں رفع السبابہ کا یہ طریقہ رائج ہے کہ وہ انگلی سے اشارہ کرنے کے بجائے انگلی کو حرکت دیتے رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی دلیل حضرات وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں ہے کہ ’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین انگلیوں کو ملاکر حلقہ بنایا، ایک کو اٹھایا، میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ہلاتے اور دعا کرتے۔‘ اس حدیث کی بنیاد پر یہ حضرات نماز کے آخر تک انگلی کو حرکت دینے کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ جبکہ فقہائے احناف حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے شہادت کی انگلی اٹھانے کے بعد اس کو حرکت دینے کے قائل نہیں ہیں۔ اسی لیے حضرت مجدد الف ثانی اور علامہ ثناءاللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہما نے انگشتِ شہادت کو بار بار حرکت دینے سے منع کیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟