کیا سیدنا علی علیہ السلام معصوم ہیں؟

سوال نمبر:5267
السلام علیکم! کیا غیر نبی معصوم ہوسکتا ہے؟ کیا سیدنا علی علیہ السلام کے بارے میں‌ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ علی جنابت میں‌ بھی مسجد آ سکتا ہے حضرت علی کی معصومیت کا اعلان ہے؟

  • سائل: محمد زبیرمقام: کھڑی شریف، میرپور
  • تاریخ اشاعت: 06 اپریل 2019ء

زمرہ: فضائل و مناقبِ‌ اہلبیتِ اطہار

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. عقیدہ اہل سنت کے مطابق انسانوں میں صرف انبیاء علیہم السلام ہی معصوم عن الخطاء ہیں، ان کے علاوہ کوئی شخص معصوم نہیں ہے۔
  2. مولا علی علیہ السلام کے گھر کا چونکہ ایک ہی راستہ تھا‘ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ علیہ السلام کے گھر کا دروازہ مسجد میں کھلا رہنے دیا اور باقی بند کروا دیے۔ حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے ایک طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ:

وَ سَدَّ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا، وَ هُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ.

 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے تمام دروازے بند کر دیئے سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی حالتِ جنابت میں بھی مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہی اس کا راستہ ہے اور اس کے علاوہ اس کے گھر کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

أحمد بن حنبل، المسند، 1: 330، رقم: 3062، مصر: مؤسسة قرطبة

اسی طرح حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ:

أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ كُلِّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْرَ مَا أدْخُلُ أَنَا وَحْدِي وَأَخْرَجُ قَالَ: مَا أُمِرْتُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَسَدَّهَا كُلَّهَا غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ وَرُبَّمَا مَرَّ وَهُوَ جُنُبٌ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا صرف میرے آنے جانے کیلئے راستہ رکھنے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا حکم نہیں سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے علاوہ سب دروازے بند کروا دئیے اور بسا اوقات وہ حالت جنابت میں بھی مسجد سے گزر جاتے۔

  1. طبرني، المعجم الكبير، 2: 246، رقم: 2031، الموصل: مكتبة الزهراء
  2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9: 155، بيروت: دارالكتاب

درج بالا روایات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حالتِ جنابت میں مسجد سے گزرنے کی اجازت بوجوہ مرحمت فرمائی تھی‘ یہ سیدنا علی علیہ السلام کے معصوم ہونے کا اعلان نہیں تھا۔ عقیدہ اہلِ سنت کے مطابق صرف انبیاء علیہم السلام ہی معصوم ہیں اور ان کی عصمت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟