Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حرام ذرائع سے حاصل کردہ آمدن سے مسجد کو چندہ دینا کیسا ہے؟

کیا حرام ذرائع سے حاصل کردہ آمدن سے مسجد کو چندہ دینا کیسا ہے؟

موضوع: صدقات نافلہ

سوال پوچھنے والے کا نام: مرزا تبسم جرال       مقام: یوکے

سوال نمبر 5216:
شراب کی آمدن سے مسجد کو چندہ دینا یا فلاحی کام کرنا کیسا ہے؟ بعض لوگ حرام کی کمائی سے جائز کاروبار شروع کرتے ہیں ان کے کاروبار کے بارے میں کیا احکام ہیں؟ حرام ذرائع سے حاصل کردہ پیسوں سے حج کی ادائیگی سے انسان ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے یا نہیں؟

جواب:

اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے اور وہ پاکیزہ چیزیں پسند فرماتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک کی راہ میں پاکیزہ مال ہی خرچ کیا جانا چاہیے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟

اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا اور فرمایا: {اے رُسُلِ (عظام!) تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو (جیسا کہ تمہارا معمول ہے) اور نیک عمل کرتے رہو، بے شک میں جو عمل بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہوں}، اور فرمایا:{اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں} پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال غبار آلود ہیں وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے یا رب! یا رب! اور اس کا کھانا پینا حرام ہو، اس کا لباس حرام ہو اور اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کہاں قبول ہو گی؟

  1. مسلم، الصحيح، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، 2: 703، رقم: رقم: 1015، بيروت: دار إحياء التراث العربي
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 328، رقم: 8330، مصر: مؤسسة قرطبة
  3. ترمذي، السنن، كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم، باب ومن سورة فاتحة الكتاب، 5: 220، رقم: 2989، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

درج بالا حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ حرام ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی کے مال سے اگر مسجد و مدرسہ کی تعمیر کے لیے یا کسی فلاحی کام پر فی سبیل للہ خرچ کیا جائے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی اجر کی امید نہ رکھی جائے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے حاصل کیا گیا مال ہے جس کی اللہ تعالیٰ کو قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-03-13


Your Comments