Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا شب معراج نبی اکرم (ص) کو نوے ہزار علوم عطا کیے گئے؟

کیا شب معراج نبی اکرم (ص) کو نوے ہزار علوم عطا کیے گئے؟

موضوع: معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم  |  فضائلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد حیات خان       مقام: سرینگر، بھارت

سوال نمبر 5207:
کیا حضور نبی اکرم ﷺ کو معراج کی رات نوے ہزار علوم عطا کئے گئے؟ کیا ایسی کوئی روایت حدیث کی کسی کتاب میں ہے؟

جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ شبِ معراج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات و صفات اور علوم کی بھی معراج تھی۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِدْرَةَ المُنْتَهَى، قَالَ: انْتَهَى إِلَيْهَا مَا يَعْرُجُ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنْزِلُ مِنْ فَوْقٍ. قَالَ: فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عِنْدَهَا ثَلَاثًا لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَهُ، فُرِضَتْ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ البَقَرَةِ وَغُفِرَ لِأُمَّتِهِ المُقْحِمَاتُ مَا لَمْ يُشْرِكُوا [ص:394] بِاللَّهِ شَيْئًا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: {إِذْ يَغْشَى} [النجم: 16] السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ: السِّدْرَةُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَأَرْعَدَهَا، وقَالَ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: إِلَيْهَا يَنْتَهِي عِلْمُ الخَلْقِ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِمَا فَوْقَ ذَلِكَ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

(شب معراج) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہٰی پر پہنچے فرماتے ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں زمین سے اوپر جانے والی اور اوپر سے اترنے والی اشیاء رک جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیں۔ آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، سورہ بقر کی آخری تین آیات دی گئیں اور آپ کی امت کے کبیرہ گناہ بخش دیئے گئے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھا ''اذ یغشی السدرۃ ما یغشی'' اور فرمایا سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ سفیان نے اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے ہوئے اشارہ کیا اور فرمایا وہ سونے کے ہیں۔ مالک بن مغول کے علاوہ دوسرے راوی نے کہا مخلوق کا علم یہیں تک پہنچتا ہے اس سے اوپر کا علم نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ترمذی، السنن، كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، باب ومن سورة والنجم، 5: 393، رقم: 3276، بیروت: دار احیاء التراث العربي

ہماری نظر سے ایسی کوئی روایت نہیں گزری جس میں شبِ معراج کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کردہ علوم کی تعداد بتائی گئی ہو۔ ہماری تحقیق کے مطابق ایسی کوئی معتبر حدیث ذخیرہ احادیث میں موجود نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2019-01-10


Your Comments