Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا میلادالنبی کے لیے وقف زمین پر مسجد و مدرسہ کی تعمیر جائز ہے؟

کیا میلادالنبی کے لیے وقف زمین پر مسجد و مدرسہ کی تعمیر جائز ہے؟

موضوع: وقف   |   وقف کےمصارف

سوال پوچھنے والے کا نام: افسر علی       مقام: برپیتا، آسام، ہندوستان

سوال نمبر 5134:
ایک آدمی نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے زمین وقف کیا۔ اب گاؤں کے تمام لوگوں اور واقف یہ چاہتے ہیں کہ اس زمین میں مسجد مدرسہ یا عیدگاہ بنا لیا جائے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر یہاں مدرسہ یا مسجد بنا لیا جائے تو یہ درست ہوگا کیا؟

جواب:

وقف سے مراد کسی شے کو فلاح عامہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مِلک میں‌ دینا ہے تاکہ اس سے بندگانِ خدا کو نفع ملتا رہے۔ واقف (وقف کرنے والا) عموماً وقف کا مقصد بھی متعین کرتا ہے لیکن اگر وقف کا کوئی خاص مقصد متعین نہ کیا گیا ہو تو منتظمین کو اس سلسلے میں‌ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

مسئلہ ذیل میں‌ بھی وقف کرنے والے نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر زمین وقف کی مگر محض میلاد کے لیے زمین وقف کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ ہماری دانست میں اس زمین کا بہترین استعمال یہی ہے کہ یہاں‌ مسجد اور ایسی درس گاہ تعمیر کی جائے جہاں‌ دینی و دنیاوی اور جدید و قدیم علوم کی تدریس کی جائے۔ بہرحال اس کا فیصلہ وقف کے منتظمین نے ہی کرنا ہے کہ اس زمین کو کس استعمال میں‌ لاجایا‘‌ منتظمین فیصلہ کریں‌ اور اسے استعمال میں‌ لے آئیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-11-15


Your Comments