Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بغیر داڑھی والا شخص اذان و اقامت کہہ سکتا ہے؟

کیا بغیر داڑھی والا شخص اذان و اقامت کہہ سکتا ہے؟

موضوع: داڑھی کی شرعی حیثیت   |  آذان

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد سلیم خالق       مقام: پاکستان

سوال نمبر 5089:
السلام علیکم! کیا بغیر داڑھی والا شخص اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے؟ اگر کہے تو نماز ہو جائے گی؟

جواب:

بغیر داڑھی والا شخص اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے اور اگر موجود افراد اس کی قتداء پر متفق ہوں تو امامت بھی کر سکتا ہے۔ کسی آیت و روایت میں‌ داڑھی کو اذان و اقامت یا امامت کی شرط قرار نہیں دیا گیا۔ اگر بغیر داڑھی والا شخص اذان و اقامت کہے یا امامت کرے تو نماز ہو جائے گی۔ تاہم مطلقاً داڑھی رکھنا سنتِ مؤکدہ اور شعائرِ اسلام میں‌ سے ہے اس لیے داڑھی مونڈنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ عموماً داڑھی مونڈے مؤذن، مَکَبِّر یا امام کو مقتدی برضا و رغبت پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے جھگڑے اور مسائل جنم لیتے ہیں‘ لہٰذا اذان و قامت یا امامت کے متمنی شخص کو داڑھی رکھنی چاہیئے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-10-16


Your Comments