الکحل ملی اشیائے خوردنی کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:4964
میرا سوال یہ ہے کہ یورپی ممالک میں بہت سی کھانے پینے کی اشیاء ایسی ہیں جیسے ڈبل روٹی، ٹافیاں، آئسکریم، مائنیز وغیرہ جن میں الکوحل کی کچھ مقدار شامل کی جاتی ہے۔ کیا ان اشیاء کو استعمال کیا جا سکتا ہے؟ بالخصوص ڈبل روٹی کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف الکوحل کے استعمال سے چیز حرام نہیں ہوتی۔ برائے مہربانی مفصل جواب دے کر راہنمائی فرمائیں۔ والسلام۔

  • سائل: عامر محمودمقام: فرانس
  • تاریخ اشاعت: 12 ستمبر 2018ء

زمرہ: تمباکو نوشی اور منشیات

جواب:

شراب کو عربی میں خمر کہتے ہیں اور اس کا کیمیائی نام الکحل ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ.

ہر نشہ آور شئے حرام ہے، اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ شراب کا عادی توبہ کئے بغیر مرگیا تو وہ آخرت میں جنت کے مشروب سے محروم رہے گا۔

مسلم، الصحيح، كتاب الأشربة، باب بيان أن كل مسكر خمر وأن كل خمر حرام، 3: 1587، رقم: 2003، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ حَرَامٌ.

شراب کی قلیل و کثیر (مقدار) حرام کر دی گئی ہے اور ہر مشروب جس سے نشہ آئے حرام ہے۔

نسائي،السنن، كتاب الأشربة، ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر، 3: 233، رقم: 5193، بيروت: دارالكتب العلمية

الکحل کے کیمیائی فوائد کے پیشِ نظر اس کی دو صورتیں ایتھنال (Ethanol) اور میتھنال (Methanol) بڑے پیمانے پر صنعتوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔ الکحل ملی مصنوعات عام طور پر تین طرح کی ہیں؛ ادویات (Medicines)، عطریات و سامانِ سنگھار (Perfumes and Cosmetics items) اور اشیائے خورد و نوش (Edible and Drinkable items)۔ تینوں کا حکم بالترتیب درج ذیل ہے:

  1. الکحل ملی ادویات کا استعمال جائز ہے کیونکہ ادویات اضطراری حالت میں استعمال کی جاتی ہیں اور اضطراری یا مجبوری کی حالت میں مخصوص فرد یعنی بیمار کے لیے بقدرِ ضرورت الکحل ملی دوا کھانا جائز ہے۔
  2. عطریات و سامانِ سنگھار (Perfumes and Cosmetics items) جیسے؛ پرفیوم، نیل پالش یا فرنیچر پالش وغیرہ میں بھی صنعتی یا کیمیائی الکحل استعمال ہوتی ہے جو ان کو منجمد ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے شامل کی جاتی ہے۔ ان اشیاء کے استعمال پر الکحل ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے اور اس کا اثر باقی نہیں رہتا‘ اس لیے الکحل ملے عطریات و سامانِ سنگھار کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں۔
  3. الکحل (کیمیائی ہو یا انگور و کھجور سے کشید شدہ) اگر اشیائے خورد و نوش کے اجزاء (Ingredients) کا حصہ ہے‘ چاہے کم ہے یا زیادہ‘ ان کا کھانا پینا شرعاً ممنوع ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ الکحل یا الکحل ملی اشیاء کا غذائی استعمال جائز نہیں، البتہ غیرغذائی مصنوعات شرائط و ضوابط کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہیں۔ عام طور پر ترقی یافتہ ممالک میں حلال فوڈز کے کوڈ استعمال کیے جاتے ہیں جن سے ان اشیاء کے اجزاء بارے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ آپ بھی اپنے ملک میں فوڈ کوڈز دیکھ لیں، اگر کسی کھانے پینے کی شیے جیسے ڈبل روٹی اور آئس کریم وغیرہ پر الکحل کا کوڈ ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس میں الکحل بطور جزو شامل ہے اور اس کا استعمال  شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟