Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اذانِ فجر کے بعد نفلی نماز ادا کرنا جائز ہے؟

کیا اذانِ فجر کے بعد نفلی نماز ادا کرنا جائز ہے؟

موضوع: نماز  |  فجر   |  مکروہ اوقات

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد زیب خان       مقام: ہری پور

سوال نمبر 4962:
السلام علیکم! کیا آذان فجر کے بعد فجر کی سنتوں سے پہلے نماز نفل پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

نماز فجر اور عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ.

صبح کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔

بخاري، الصحیح، 1: 212، رقم: 561، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: نَهَی رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ صَلَاتَیْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا یعنی فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد یہاں کہ سورج غروب ہو جائے۔

بخاري، الصحیح، 1: 213، رقم: 563

حتیٰ کہ نماز فجر کی سنتیں بھی رہ جائیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھنے کا حکم ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتِي الْفَجْرِ فَلْیُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فجر کی دو سنتیں ادا نہ کر سکے، وہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ سکتا ہے۔

  1. ترمذي، السنن، 2: 287، رقم: 423، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
  2. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 1: 450، رقم: 1153، بیروت: دار الکتب العلمیة

فقہاء کرام نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے کہ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی بھی نفلی نماز جائز نہیں ہے ہاں اگر فوت شدہ نماز باقی ہو تو قضاء کر سکتے ہیں۔ امام قدوری فرماتے ہیں:

یُکْرَهُ أَنْ یَتَنَفَّلَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعد صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ؛ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ یُصَلِّيَ فِي هٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ الْفَوَائِتِ، وَیَسْجُدَ لِلتِّلاَوَةِ، وَیُصَلِّی عَلَی الْجَنَازَةِ، وَلَا یُصَلِّي رَکعَتَي الطَّوَافِ. وَیُکْرَهُ أَنْ یَتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِأَکْثَرَ مِنْ رَکْعَتَيِ الْفَجْرِ وَلَا یَتَنَفَّلُ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.

نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ اور ان دونوں اوقات میں فوت شدہ نمازیں قضاء کرنے، سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور طواف کی دو رکعت ادا نہ کرے۔ اور صبح صادق کے بعد سنتِ فجر سے زائد نوافل پڑھنا مکروہ ہے اور نہ ہی مغرب سے پہلے نفل پڑھے۔

أحمد بن محمد، مختصر القدوري: 84-85، بیروت، لبنان: مؤسسة الریان

اس لیے فجر کا وقت شروع ہونے سے لیکر طلوع آفتاب تک فجر کی دو سنتوں کے علاوہ کوئی نفل نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-08-04


Your Comments