نمازِ تراویح کی چار رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4901
اگر کوئی تراویح کی نماز میں دو رکعت پر بیٹھ کر سلام پھیرنا بھول جائے اور چار رکعت تراویح کی نماز ایک ہی سلام سے پڑھ لے تو اسکا کیا حکم ہے؟ کیا چار رکعت تراویح کی نماز ہوگی؟ یا دو رکعت تراویح کی نماز اور دو رکعت نفل ہوگی؟ یا چارو رکعت نفل ہوگی؟

  • سائل: محمد اسجدمقام: اعظم گڑھ، یو۔پی، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 22 جون 2018ء

زمرہ: نماز تراویح

جواب:

اگر دو تراویح کے بعد اطمنان سے بیٹھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے‘ چاہے تشہد نہ بھی پڑھے تو چوتھی رکعت ساتھ ملالے تو چار تراویح شمار ہوں گی۔ اگر دو تراویح کے بعد بغیر بیٹھے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا تو چوتھی رکعت بھی ساتھ ملائے گا مگر یہ دو تراویح شمار ہوں گی اور دو نفل ہوں گے۔ یاد رہے دونوں صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

اگر امام تراویح میں تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟