Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مشترکہ اکاؤنٹ کی رقم بھی وراثت میں تقسیم ہوگی؟

کیا مشترکہ اکاؤنٹ کی رقم بھی وراثت میں تقسیم ہوگی؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: راشد انور       مقام: اسلام آباد

سوال نمبر 4863:
ایک بندے نے اپنے پسماندگان میں ایک بیوہ اور پانچ بچے چھوڑے، جن میں تين بيٹے اور دو بيٹاں ھيں وراثت میں تين مکان اور تين بنک اکاونٹ چھوڑے-جن میں ایک سادۂ اکاونٹ اور دو فکسڈ ڈیپازٹ اکاونٹ ھيں- دو فکسڈ ڈیپازٹ اکاونٹ میں سے ایک جوانٹ اکاونٹ ہے جو کے بیوہ اور انکے شوہر کے نام تھا- اس جوانٹ اکاونٹ میں بیوہ کی طرف سے کچھ بھی نا ڈالا یا نکالا گیا –اس جوانٹ اکاونٹ کی رقم باقی تمام حصوں سے زیادہ بنتی ہے جبکہ باقی تمام حصے کرنے پر بیوہ کو ہر چیز سے علیحدہ حصہ بھی دیا اور مقرر کیا گیا ہے۔ سب کچھ شرعی طریقے سے بانٹنا گیا ہے - پوچھنا یہ کہ کیا جوانٹ اکاونٹ کا سارا پیسہ بیوہ اپنے پاس رکھ سکتی ہے-

جواب:

اگر مشترکہ اکاؤنٹ (Joint Account) میں پڑی ہوئی تمام رقم بھی مرحوم کی ہے تو اسے بھی شرعی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس صورت میں بیوہ کو آٹھواں حصہ (1/8) ملے گا۔ اگر باقی ورثاء یعنی مرحوم کی اولاد چاہیں تو یہ ساری رقم والدہ کو ہبہ کر سکتے ہیں۔ تاہم دوسرے ورثاء کی موجودگی میں بیوہ سارا مال نہیں لے سکتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-05-15


Your Comments