Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - نوزائدہ بچے کے بال منڈوا کر محفوظ کرنا کیسا ہے؟

نوزائدہ بچے کے بال منڈوا کر محفوظ کرنا کیسا ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: طاہر بن یامین       مقام: ملتان

سوال نمبر 4849:
السلام علیکم! بعض لوگ پہلے بچے کے سر کے بال منڈوانے کے بعد سنبھال لیتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک بکری عقیقہ (میں ذبح) کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً قَالَ فَوَزَنَتْهِ فَکَانَ وَزْنُهِ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ.

اے فاطمہ! ان کا سر مونڈھ کر بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرو تو ان کا وزن ایک درہم یا درہم سے کچھ کم تھا۔

ترمذي، السنن، کتاب الأضاحی، باب العقیقة بشاة، 4: 99، رقم: 1519، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نومولود بچے کا سر منڈوا کر بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا ثبوت تو ملتا ہے مگر اُن بالوں کو سنبھال کر رکھنے کی کوئی نظیر نہیں ملتی، لہٰذا پہلے بچے کا سر منڈوا کر بالوں کو سنبھالنا ایک فضول رسم ہے جس کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-04-30


Your Comments