Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مالی جرمانے کی سزا عائد کرنا جائز ہے؟

کیا مالی جرمانے کی سزا عائد کرنا جائز ہے؟

موضوع: حدود و تعزیرات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد وقار یونس       مقام: قصور

سوال نمبر 4800:
السلام علیکم مفتی صاحب! کچھ علمائے کرام کا مؤقف ہے کہ اسلام میں‌ مالی جرمانہ جائز نہیں۔ اس صورت میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر لیا جانے والا جرمانہ، عدالتوں‌ کی طرف سے جرمانے کی سزائیں اور تعلیمی اداروں کی طرف سے جرمانے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

جواب:

مالی جرمانے کو فقہی اصطلاح میں تعزیرِ مالی کا نام دیا جاتا ہے۔ کچھ علماء اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں۔ تاہم قتلِ خطاء کے خون بہاء، ظہار اور قسم کے کفارہ وغیرہ کی صورت تعزیرِ مالی کی کئی مثالیں شریعتِ اسلامیہ میں موجود ہیں جن پر مروجہ مالی جرمانے کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ قتلِ خطاء کی دیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَئًا وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَن يَصَّدَّقُواْ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّهِ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا.

اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر (بغیر قصد) غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام / باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

النساء، 4: 92

آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قتلِ عمد کی سزا قصاص اور قتلِ خطاء کی سزا دیت ہے۔ قتلِ خطاء کی صورت میں قاتل مقتول کے ورثاء کو خون بہا دیتا ہے جو کہ مالی جرمانہ ہے۔

قسم توڑنے پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا، غلام آزاد کرنا (ذاتی غلام کو آزادی دینا یا کسی دوسرے سے خرید کر آزاد کرنا) کفارہ ہے جو کہ مالی تعزیر ہے۔ اگر مالی حالت ایسی نہیں کہ قسم توڑنے والا جرمانہ ادا کر سکے تو تین روزے رکھے گا۔ قرآنِ مجید میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے:

لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.

اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کرلو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھالو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ۔

الْمَآئِدَة، 5: 89

اسی طرح جب کوئی عاقل و بالغ مسلمان اپنی بیوی کے مخصوص اعضاء کو دائمی محارم کے اعضائے پردہ سے تشبیہ دے تو یہ ظہار کہلاتا ہے، جس کا کفارہ اولاً غلام آزاد کرنا، یہ میسر نہ ہو تو لگاتار ساٹھ روزے رکھنا، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یوں ظہار کے کفارہ میں بھی ساٹھ روزے رکھنے جیسی جسمانی مشقت کے ساتھ غلام آزاد کرنے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی مالی سزائیں بھی رکھی گئی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌO فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌO

اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر جو کہا ہے اس سے پلٹنا چاہیں تو ایک گردن (غلام یا باندی) کا آزاد کرنا لازم ہے قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، تمہیں اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے، اور اللہ اُن کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو۔ پھر جسے (غلام یا باندی) میسّر نہ ہو تو دو ماہ متواتر روزے رکھنا (لازم ہے) قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، پھر جو شخص اِس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (لازم ہے)، یہ اِس لئے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھو۔ اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

الْمُجَادَلَة، 58: 3-4

اسی طرح جسمانی اعضاء کے قصاص کے ساتھ دیت کی صورت بھی موجود ہے جس میں فریقین کی رضامندی سے مال کی کسی مقدار پر صلح کر لی جاتی ہے۔ یہ تمام مالی جرمانے کی صورتیں ہیں۔

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب کے غلاموں نے مزینہ کے ایک آدمی کی اونٹنی چرا کر ذبح کر لی۔ یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے خیال میں ہاتھ کاٹنے کی بجائے انہیں بھوکے رکھ کر سزا دو۔ مزید غور و فکر کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وَﷲِ لَأُغَرِّمَنَّکَ غُرْمًا یَشُقُّ عَلَیْکَ. ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِیِّ کَمْ ثَمَنُ نَاقَتِکَ؟ فَقَالَ الْمُزَنِیُّ: قَدْ کُنْتُ وَﷲِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِ مِائَةِ دِرْهَمٍ. فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه أَعْطِهِ ثَمَانَ مِائَةِ دِرْهَمٍ.

خدا کی قسم میں تمہیں اتنا تاوان کر دوں گا کہ تم تنگی محسوس کرو گے۔ پھر مزنی سے فرمایا کہ تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہو گی؟ مزنی نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے وہ چار سو درہم میں بھی بیچنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے آٹھ سو درہم دو۔

امام مالک، المؤطأ، 2: 748، رقم: 1436، دار احیاء التراث العربي مصر

علامہ زین الدین ابن نجیم بیان کرتے ہیں:

وَفِي الْخُلَاصَةِ سَمِعْت عَنْ ثِقَةٍ أَنَّ التَّعْزِیرَ بِأَخْذِ الْمَالِ إنْ رَأَی الْقَاضِي ذَلِکَ أَوْ الْوَالِي جَازَ وَمِنْ جُمْلَةِ ذَلِکَ رَجُلٌ لَا یَحْضُرُ الْجَمَاعَةَ یَجُوزُ تَعْزِیرُهُ بِأَخْذِ الْمَالِ.

خلاصہ میں ہے کہ قاضی یا والی کی صوابدید کے مطابق مالی تعزیر جائز ہے اور اسی کے منجملہ یہ ہے کہ کوئی آدمی (نماز کی ) جماعت میں نہ آتا ہو تو مال لے کر اس کی تعزیر جائز ہے۔

ابن نجیم، البحر الرائق، 5: 44، بیروت: دار المعرفة

احناف میں سے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور متاخرین فقہاء تعزیر مالی کے جواز کے قائل ہیں۔ علامہ ابنِ ہمام فرماتے ہیں:

وعن أبی یوسف: یجوز التعزیر للسلطان بأخذ المال.

’’امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حاکم کے لئے تعزیراً مال کا لینا جائز اوردرست ہے۔‘‘

(فتح القدیر، 5: 112)

فقہ حنفی کے ممتاز فقیہ علی ابن خلیل طرابلسی تعزیرِ مالی کے بارے میں فرماتے ہیں:

یجوز التعزیر بأخذ المال، وهو مذهب أبی یوسف، وبه قال: مالک، ومن قال: إن العقوبه المالیة منسوخة، فقد غلط علی مذاهب الأئمة نقلاً واستدلالاً، ولیس بسهل دعوی نسخها.

’’مالی تعزیر کا جواز امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے اور اسی کے قائل امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں اور جن لوگوں نے مالی سزاؤں کے نسخ کا دعویٰ کیا ہے، ان لوگوں نے مذاہب ائمہ کی طرف روایت اور استدلال کے طورپر غلط نسبت کی ہے اور ان کے نسخ کا دعویٰ آسان نہیں ہے۔‘‘

(معین الحکام: 95)

درج بالا تمام تصریحات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ تعزیرِ مالی شرعاً جائز ہے۔ جسمانی سزاؤں کی طرح یہ بھی ایک سزا ہے جو جرائم کی روک تھام اور نظم و نسق کی بحالی میں معاون ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم تعزیرِ مالی یا مالی جرمانے کے جواز کے قائل ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2018-04-10


Your Comments