Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جہیز ملنے کے بعد بیٹی کا وراثت میں حق ختم ہو جاتا ہے؟

کیا جہیز ملنے کے بعد بیٹی کا وراثت میں حق ختم ہو جاتا ہے؟

موضوع: وراثت کی تقسیم

سوال پوچھنے والے کا نام: زوہیب حسن       مقام: فیصل آباد

سوال نمبر 4731:
السلام علیکم! میرا سوال وراثت کی تقسیم سے متعلق ہے۔ ہم 6 بہن بھائی ہیں، تین بھائی اور تین بہنیں۔ ایک بہن کی شادی ابو کی زندگی میں‌ ہی ہوچکی ہے۔ 2 سال پہلے میں نے اپنی اور ساتھ ایک بہن کی شادی کی تھی۔ اب دو بھائی اور ایک بہن کی شادی کرنی ہے۔ ہم اپنی بہن کیلیے آہستہ آہستہ جہیز کا بندو بست کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم ان کو وراثت کا حق دیں، ان کے حصے کیسے بنیں‌ گے۔ اس بہن کا ہم کیسے تخمینہ لگائیں؟ اور پہلی دو بہنوں کا کیسے دیکھں؟ مجھ پہ کچھ قرض بھی ہے۔ کیا ہم جہیز کو وراثت کی مد میں دے سکتے ہیں؟ پہلی دو بہنوں کو جو ہم نے جہیز دیا ہے (ایک کو میں نے اور ایک کو ابو نے) ان کو اب ہمیں کچھ دینا ہے کیا؟

جواب:

آپ کے والد کی وفات کے وقت جو کچھ ان کی ملکیت میں تھا اس میں سے اُن کے کفن، دفن اور قرض (اگر تھا) کی ادائیگی کے بعد کل قابلِ تقسیم ترکہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ آپ نے وضاحت نہیں کہ آپ کے والد کی وفات کے وقت والدہ تھیں یا نہیں؟ اگر موجود تھیں تو کل ترکہ میں سے ان کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

اور تمہاری بیویوں کا تمہارے چھوڑے ہوئے (مال) میں سے چوتھا حصہ ہے اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔

النساء، 4: 12

 والدہ کو دینے کے بعد بچ جانے والا ترکہ (اور اگر والدہ نہیں تھیں تو کُل ترکہ) اولاد میں درج ذیل حکمِ باری تعالیٰ کے مطابق تقسیم ہو جائے گا:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

یعنی مرحوم کے کل قابلِ تقسیم ترکہ کے نو (9) برابر حصے کیے جائیں گے، ہر بیٹے کو دو اور ہر بیٹی کو ایک حصہ مل جائے گا۔

آپ کے والد اپنی زندگی میں جس کو جو دے کر گئے ہیں وہ جہیز کی مد میں تھا یا دوسری مَدّات میں‘ اسے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ کسی بیٹی کو جہیز دے کر اسے وراثت کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ آپ تمام بہن بھائیوں کو ان کے حصے کا ترکہ دے دیں، وہ اپنے حصے سے چاہیں تو جہیز بنا لیں۔ جہیز دینا آپ کی شرعی ذمہ داری نہیں ہے۔ قیامت کے دن آپ سے جس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہونا ہے وہ بہن بھائیوں کو ترکہ میں انصاف کے ساتھ حصہ دینے ذمہ داری ہے۔ اسی ذمہ داری کو بحسن و خوابی نبھائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-03-13


Your Comments