Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سرکاری ادارے میں متبادل بندہ دے کر چھٹی کرنا جائز ہے؟

کیا سرکاری ادارے میں متبادل بندہ دے کر چھٹی کرنا جائز ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: اسلام خان       مقام: کراچی

سوال نمبر 4671:
مفتی صاحب زید ایک گورنمنٹ ادارے میں کام کرتا ہے۔ اپنے دوست سے کہتا ہے کہ ’ آپ میری جگہ دس دن کے لیے کام کر دو‘ اس کے پیسے لے لو۔ مجھے گھر جانا ہے۔‘ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

اس کے جواز و عدمِ جواز کا فیصلہ ادارے کے پالیسی کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر ادارے نے اس طرح متبادل بندہ دے کر چھٹی کرنے کی اجازت ہے یا اس سلسلے میں کوئی خاص پالیسی وضع نہیں کی گئی تو زید متبادل کو بندے کو اپنی جگہ کام دے سکتا ہے۔ لیکن اگر ادارے نے اسے ممنوع قرار دے رکھا ہے اور زید ادارے کا قانون توڑ رہا ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2018-01-31


Your Comments