غیرمسلم ملک میں ریسٹورنٹ کے شراب خانے (Pub) میں‌ کام کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:4663
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میں جرمنی کے ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہوں جہاں میں مختلف قسم کی شراب کو گلاس میں ڈال کر دیتا ہوں اور بیرے (waiter) ان شرابوں کو گاہکوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ریسٹورنٹ کا مالک ان گاہکوں سے خود پیسے وصول کرتا ہے۔ کیا میرا یہ کام کرنا جائز ہے؟

  • سائل: علی عباسمقام: کولون، جرمنی
  • تاریخ اشاعت: 26 جنوری 2018ء

زمرہ: تمباکو نوشی اور منشیات

جواب:

غیرمسلم ممالک میں کام کرنے والے ملازمین کو چند احکام کی رخصت ہوتی ہے۔ یہ ملازمت کراہت سے خالی نہیں‘ آپ باَمرِ مجبوری ریسٹورنٹ میں کام کرتے رہیں اور کوئی دوسری ملازمت یا ذریعہ معاش تلاش کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟