کیا چوری کی بجلی سے بننے والا کھانا حلال ہے؟

سوال نمبر:4632
السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ جس طرح بہت سے عوام بجلی چوری کرتے ہیں اور اس دوران وہ اس بجلی سے وضو اور خوراک کے لیے پانی گرم کرتے ہیں۔ تو اس پانی سے وضو جائز ہے اور اگر یہ پانی خوراک کی چیزوں میں استمعال ہو تو خوراک کا کیا بیان ہے؟ حرام ہے یا نہیں؟

  • سائل: فواد علیمقام: پشاور، خیبر پختونخواہ
  • تاریخ اشاعت: 06 جنوری 2018ء

زمرہ: چوری و ڈاکہ زنی

جواب:

بجلی چوری کرنا غیر اخلاقی، حرام اور قانوناً جرم ہے۔ ایسا کرنے والا خدا تعالیٰ کی نظر میں گنہگار اور ملکی قانون کی نگاہ میں مجرم ہے اور اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔ تاہم جو شخص اس چوری کے بارے میں نہیں‌ جانتا اس کے لیے اس سے بننے والا کھانا جائز ہے اور اس سے کیا گیا وضو بھی درست ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟