مردوں کا لمبے بال رکھنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4590
کیا اسلام مردوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی حد کیا ہے؟ مستند آیات و روایات کی روشنی میں‌ جواب عنایت فرمائیں۔

  • سائل: نور احمدمقام: مری، راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 09 جنوری 2018ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسوئے مبارک دراز تھے۔ اس لیے اسلام میں مردوں کے لیے لمبے بال رکھنے کی ممانعت نہیں کی ہے، تاہم عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک اتنے دراز تھے کہ کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراپا کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ:

کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم مَرْبُوعًا، بَعِیْدَ مَا بَیْنَ الْمَنْکِبَیْنِ، لَهُ شَعَرٌ یَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَیْهِ، رَأَیْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَیْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میانہ قد تھے۔ دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ گیسوئے مبارک کانوں کی لَو تک پہنچتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ جُبّے میں ملبوس دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین کبھی نہیں دیکھا۔

  1. بخاري، الصحیح، 3: 1303، رقم: 3358، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
  2. مسلم، الصحیح، 4: 1818، رقم: 2337، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

ایک اور روایت میں حضرت براء g بیان کرتے ہیں:

مَا رَأَیْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم.

میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ پوشاک پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2211، رقم: 5561
  2. مسلم، الصحیح، 4: 1818، رقم: 2337

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسوئے مبارک کانوں کی لَو تک دراز ہونے کا ذکر ملتا ہے مگر قرآن وحدیث میں مردوں کو سر پر بال رکھنے میں کسی خاص مقدار کا پابند نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ عورتوں سے مشابہت اختیار نہ کی جائے، اسی طرح عورتوں کو مردوں سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله علیهما قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم الْمُتَشَبِّهِینَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی وضع قطع اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں کی وضع قطع اپنائیں۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2207، رقم: 5546
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 339، رقم: 3151

درج بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ مردوں کے لیے لمبے بال رکھنے سے منع نہیں کیا گیا لیکن عورتوں کی وضع اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟