Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی بجائے سودی قرض لیکر خریدنا کیسا ہے؟

بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی بجائے سودی قرض لیکر خریدنا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: انیس احمد       مقام: اسلام آباد

سوال نمبر 4547:
اگر کوئی شخص بینک سے قرض لے کر گاڑی خریدتا ھے اور اس کو رینٹ پر لگا لیتا ھے اس کی آمدن میں سے بینک کو قسط بمع سود واپس کرتا ھے اسکی نیت یہ ہے کہ کاروبار کے منافع میں سے بینک کو اضافی رقم واپس کروں گا چونکہ بینک سے لی ہوئی گاڑی بہت مہنگی پڑتی ہے بہ نسبت اس کے کہ قرضہ لے کر خود گاڑی خریدے جو بہت سستی پڑتی ہے۔کیا ایسی صورت میں قرض لے کر گاڑی لینا جائز ہے۔

جواب:

اگر بلاسود قرض کہیں سے میسر ہے تو بینک سے گاڑی لینے کی بجائے قرض لیکر گاڑی خریدنا زیادہ اچھا ہے۔ لیکن اگر بلاسود قرض میسر نہیں ہے تو سودی قرض لینے کی بجائے بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا بہتر ہے۔ دونوں صورتوں کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

سود کی جامع تعریف کیا ہے؟

کیا بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-12-16


Your Comments