بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی بجائے سودی قرض لیکر خریدنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4547
اگر کوئی شخص بینک سے قرض لے کر گاڑی خریدتا ھے اور اس کو رینٹ پر لگا لیتا ھے اس کی آمدن میں سے بینک کو قسط بمع سود واپس کرتا ھے اسکی نیت یہ ہے کہ کاروبار کے منافع میں سے بینک کو اضافی رقم واپس کروں گا چونکہ بینک سے لی ہوئی گاڑی بہت مہنگی پڑتی ہے بہ نسبت اس کے کہ قرضہ لے کر خود گاڑی خریدے جو بہت سستی پڑتی ہے۔کیا ایسی صورت میں قرض لے کر گاڑی لینا جائز ہے۔

  • سائل: انیس احمدمقام: اسلام آباد
  • تاریخ اشاعت: 16 دسمبر 2017ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

اگر بلاسود قرض کہیں سے میسر ہے تو بینک سے گاڑی لینے کی بجائے قرض لیکر گاڑی خریدنا زیادہ اچھا ہے۔ لیکن اگر بلاسود قرض میسر نہیں ہے تو سودی قرض لینے کی بجائے بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا بہتر ہے۔ دونوں صورتوں کی وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

سود کی جامع تعریف کیا ہے؟

کیا بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟