Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سونے سے استنجاء لازم ہو جاتا ہے؟

کیا سونے سے استنجاء لازم ہو جاتا ہے؟

موضوع: طہارت   |  استنجا

سوال پوچھنے والے کا نام: اشتیاق احمد       مقام: اٹک

سوال نمبر 4501:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ رات کو سو کر اٹھنے کے بعد اگر قضائے حاجت نہ کریں تو کیا صرف وضو کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں؟کیا استنجاء صرف اسی صورت میں کرنا ہوگا جب جسم سے کوئی غلاظت نکلے؟

جواب:

شریعتِ مطاہرہ نے طہارت کے معاملے میں مبالغہ کا حکم دیا ہے اور طہارت و پاکیزگی کا اہم ذریعہ استنجاء ہے۔ سو کر اٹھنے کے بعد اگرچہ استنجاء کرنا ضروری نہیں ہے‘ تاہم وضو کرنے سے پہلے اگر استنجاء کر لیا جائے تو انسان تازہ دم ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ.

(التَّوْبَة ، 9 : 108)

اور اﷲ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-11-21


Your Comments