Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - نمازِ تراویح کسے کہتے ہیں اور اس کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

نمازِ تراویح کسے کہتے ہیں اور اس کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

موضوع: نماز  |  عبادات  |  نمازتراویح

سوال نمبر 447:
نمازِ تراویح کسے کہتے ہیں اور اس کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب:

تراویح، ترویحہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایک دفعہ آرام کرنا جبکہ تراویح کے معنی ہے، متعدد بار آرام کرنا۔ تراویح وہ نماز ہے جو رمضان المبارک میں عشاء کے بعد باجماعت پڑھی جاتی ہے۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں۔ ’’رمضان کی راتوں میں نماز باجماعت کا نام تراویح ہے‘‘ نمازِ تراویح کی تعداد چونکہ بیس ہے اس لیے ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر ٹھہر کر اور سستا کر نماز کا شروع کرنا مستحب ہے کیونکہ صحابہ کرام ایسا کیا کرتے تھے، اور اسی وجہ سے اس نماز کا نام تراویح رکھا گیا ہے۔

قیامِ رمضان کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو رمضان کی راتوں میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی چاہتے ہوئے رمضان کا قیام کیا اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب صلاة المسافرين و قصرها، باب الترغيب فی قيام رمضان وهو التراويح، 1 : 523، رقم : 759

نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے ہوتاہے اور رات کے آخری حصے میں پڑھنا افضل ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments