Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جمعہ کا عربی خطبہ پڑھتے ہوئے خطیب ہاتھ کھلے رکھے یا باندھے؟

جمعہ کا عربی خطبہ پڑھتے ہوئے خطیب ہاتھ کھلے رکھے یا باندھے؟

موضوع: نماز جمعہ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد شبیر عالم       مقام: ہندوستان

سوال نمبر 4456:
مفتی صاحب! خطیب زبانی خطبہ جمعہ پڑھتے وقت ہاتھ باندھ کر خطبہ جمعہ پڑھے یا ہاتھ چھوڑ کر؟

جواب:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبہ جمعہ میں حمد باری تعالی، عقائد و عبادات کی تعلیم، وعظ و نصیحت اور حالات پر تبصرہ فرماتے۔ آپ کی اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے امتِ مسلمہ نے تواتر کے ساتھ خطبہ جمعہ کے ان مشتملات کو شامل رکھا ہے۔ خطبہ دینے کے مختلف انداز پر روایات ملتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

کَانَ النَّبِيُّ یَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُومُ کَمَا تَفْعَلُونَ الْآنَ.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے۔ پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہو جاتے جیسے تم اب کرتے ہو۔

بخاري، الصحیح، 1: 311، رقم: 878، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

یہی وجہ ہے کہ آج بھی عربی خطبہ کھڑے ہو کر دو حصوں میں دیا جاتا ہے اور درمیان میں خطیب چند لمحات کے لئے بیٹھتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق دورانِ خطبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بھی جائز ہے:

عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَیْنَمَا النَّبِيُّ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ ﷲِ هَلَکَ الْکُرَاعُ وَ هَلَکَ الشَّاءُ فَادْعُ ﷲَ أَنْ یَسْقِیَنَا فَمَدَّ یَدَیْهِ وَدَعَا.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: گھوڑے ہلاک ہو گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم پر بارش برسائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔

بخاري، الصحیح، 1: 315، رقم: 890

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصا یا کمان کا سہارا لے کر بھی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ہے جس طرح کہ حضرت شعیب بن زریق طائفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک ایسے شخص کے پاس بیٹھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے شرف سے مشرف تھا۔ جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا وہ ہم سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمانے لگے۔ میں ایک وفد لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ ہم سات یا نو افراد تھے۔ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اﷲ! ہم نے آپ کی زیارت کرلی ہے۔ لہٰذا اﷲ تعالیٰ سے ہمارے لیے بھلائی کی دعا کیجئے۔

فَأَمَرَ بِنَا أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَيْئٍ مِنْ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاکَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَیَّامًا شَهِدْنَا فِیهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی عَصًا أَوْ قَوْسٍ فَحَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَی عَلَیْهِ کَلِمَاتٍ خَفِیفَاتٍ طَیِّبَاتٍ مُبَارَکَاتٍ ثُمَّ قَالَ أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّکُمْ لَنْ تُطِیقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا کُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَکِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کچھ کھجوریں دینے کا حکم فرمایا اور مسلمان ان دِنوں خستہ حالی میں تھے جتنے دن ہم ٹھہرے ان میں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمعہ بھی پڑھا آپ ایک لاٹھی یا کمان سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے تو آپ نے چند مختصر، پاکیزہ اورمبارک کلمات کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا۔ اے لوگو! ہر حکم پر عمل کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہے لہٰذا مضبوطی سے قائم رہو۔ اوربشارت پاؤ۔

أبي داود، السنن، 1: 287، رقم: 1096، بیروت: دار الفکر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ خطبہ شہادت کی انگلی سے اشارے بھی فرمایا کرتے تھے، حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:

لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم وَ هُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ مَا یَزِیدُ عَلَی هَذِهِ یَعْنِي السَّبَّابَةَ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ.

میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف انگوٹھے کے پاس والی یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا کرتے تھے۔

أبي داود، السنن، 1: 289، رقم: 1104

بوقت ضرورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دست مبارک کو کھول کر اور کبھی مٹھی بند کر کے اشارے فرماتے تھے:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ یَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِیهِ بِیَدِهِ وَقَبَضَ یَدَهُ فَجَعَلَ یَقْبِضُهَا وَیَبْسُطُهَا ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُونَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُونَ؟ قَالَ وَیَتَمَایَلُ رَسُولُ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ یَمِینِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ یَتَحَرَّکُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْئٍ مِنْهُ حَتَّی إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم.

حضرت عبد اﷲ ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے کہ: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین و آسمان کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کرلی اور پھر کھول کر فرمایا اور اﷲ تعالیٰ فرمائے گا میں ہی جبار ہوں میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں سرکش لوگ، کہاں ہیں متکبر لوگ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے جاتے اور دائیں بائیں گھومتے جاتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرکت سے منبر بھی متحرک تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے یہ خیال ہو رہا تھا کہ کہیں منبر مع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گر نہ جائے۔

ابن ماجه، السنن، 2: 1429، رقم: 1475، بیروت: دار الفکر

درج بالا روایات سے واضح ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ کے لیے کسی ایک کیفیت کو مخصوص نہیں کیا گیا ہے۔ موضوع کی مناسبت سے خطیب خطبہ جمعہ (اردو، عربی) میں ہاتھ سے اشارے بھی کر سکتا ہے، ہاتھ باندھ بھی سکتا ہے ہاتھ کھول بھی سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-11-16


Your Comments