کیا طلاق رجعی کی عدت ختم ہونے کے بعد دی گئی طلاق واقع ہوگی؟

سوال نمبر:4397
السلام علیکم مفتی صاحب! اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ ’میں نے تمہیں طلاق دی‘ اس کے بعد میں قولی یا فعلی رجوع نہیں کیا۔ عدت کا وقت گزر جانے کے بعد اسٹام پیپر تیار کروایا جس پر تحریر تھا کہ ’میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق زبانی دے دی تھی‘ مجھے یہ جاننا ہے کہ اب مکمل طلاق ہو گئی یا عدت گزر جانے کے بعد طلاق واقع نہیں ہو گی؟

  • سائل: محمد نعیممقام: ملتان
  • تاریخ اشاعت: 10 اکتوبر 2017ء

زمرہ: طلاق   |  طلاق رجعی   |  عدت کے احکام

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ.

اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں:) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو۔

الطَّلاَق، 65: 1

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کے بعد عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدت سے مراد وہ مدت ہے جو عورت کو شوہر سے خلع لینے یا طلاق واقع ہونے یا تنسیخِ نکاح کے بعد گزارنی ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌO

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو، اگر وہ اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں، اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر، البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

البقرة، 2: 228

مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں حائضہ مطلقہ کی عدت تین حیض بیان کی گئی ہے یعنی جس عورت کو حیض آتا ہو اس کو طلاق دی جائے تو اس کی عدت تین بار حیض آنے کے بعد ختم ہو جائے گی۔ جس عورت کو بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو اس کی عدت تین مہینے ہے اور حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ جب کوئی بھی عورت طلاق کے بعد یہ مدت گزار لے وہ نیا نکاح کرنے کے لیے آزاد ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے قرآنِ مجید فرماتا ہے:

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًاO

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر تمہیں شک ہو (کہ اُن کی عدّت کیا ہوگی) تو اُن کی عدّت تین مہینے ہے اور وہ عورتیں جنہیں (ابھی) حیض نہیں آیا (ان کی بھی یہی عدّت ہے)، اور حاملہ عورتیں (تو) اُن کی عدّت اُن کا وضعِ حمل ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے (تو) وہ اس کے کام میں آسانی فرما دیتا ہے۔

الطَّلاَق، 65: 4

مزید فرمایا:

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ.

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو۔

البقرة، 2: 232

ان آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ عدت کے بعد مطلقہ عورت اپنے پرانے یا کسی بھی مرد سے دستور کے مطابق نکاح کرنے میں آزاد ہوگی‘ پہلا نکاح ختم ہوتا ہے۔ طلاق رجعی میں عدت کی مدت ختم ہونے سے پہلے تک نکاح باقی ہوتا ہے اور فریقین کو کسی نئے نکاح کے بغیر رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے‘ عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہوجاتا ہے اور بیوی محلِ طلاق نہیں رہتی۔ اس لیے عدت پوری ہونے کے بعد دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

اگر آپ نے واقعی طلاق رجعی دے کر عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت کے بعد یہ جملہ فضول ہوگیا کہ ’میں نے اپنی بیوی کو تین بار زبانی طلاق دی تھی‘۔ ابھی تک ایک ہی طلاق واقع ہوئی ہے اور لڑکی نیا نکاح کرنے میں آزاد ہے۔ اگر وہ چاہے تو سابقہ شوہر کے ساتھ نکاح کر لے یا کسی اور سے نکاح کرنے میں بھی وہ آزاد ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟