Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق ہوگئی؟

کیا طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق ہوگئی؟

موضوع: طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عثمان       مقام: راولپنڈی' پاکستان

سوال نمبر 4299:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں نے نافرمانی کی بنا پر اپنی بیوی کو کئی مرتبہ طلاق کی دھمکی دی ہے، مثلاً پردہ نہیں کرے گی تو طلاق دے دوں گا' میری اجازت کے بغیر فلاں جگہ جائے گی تو طلاق دے دوں گا وغیرہ۔ اب میری بیوی یہ دعوی کر رہی ہے کہ میں نےاسے مختلف اوقات میں تین سے زائد طلاقیں دے دی ہیں۔ (جبکہ یہ بات درست نہیں) ایسی صورت میں اس کے دعوے کی کیا حیثیت اور حکم ہے۔

جواب:

اگر آپ نے واقعی ’طلاق دے دوں گا‘ کے الفاظ بولے ہیں تو ان سے طلاق نہیں ہوئی، البتہ آپ کے ان الفاظ نے اس رشتے کی محبت، مؤدت اور عزت کو پامال کر دیا۔ ان الفاظ سے آپ نے نفرت کا جو زہر گھولا اس کا تریاق شائد ممکن نہ ہو‘ آپ نے دھمکی دینے کی کوشش کی مگر اس دھمکی نے ایسی نفرت پیدا کی کہ اب آپ کی بیوی آپ سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ نکاح کا بندھن بہت نازک ہوتا ہے، اس کی تعمیر محبت اور عزت کے جذبات پر ہوتی ہے‘ دھونس اور دھمکیوں سے یہ رشتہ پختہ نہیں کمزور ہوتا ہے۔

بہرحال آپ کے الفاظ سے طلاق نہیں ہوئی، جب تک بیوی کوئی گواہ یا ثبوت پیش نہ کرے اس کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر وہ آپ کے نکاح میں نہیں رہنا چاہتی اور آپ طلاق بھی نہیں دیتے تو اسے حق ہے کہ معاملہ عدالت کے سامنے پیش کر کے خلع یا تنسیخِ نکاح کا مطالبہ کر دے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-08-02


Your Comments