کیا نکاح سے پہلے مشروط کی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:4264
السلام علیکم! مجھے طلاق کے بارے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مجھ سے قسم لی گئی تھی، جس کے الفاظ یہ تھے ’اگر میں نے ایسا کیا ہو تو جب بھی میں شادی کروں میری بیوی کو طلاق‘۔ میں نے وہ کام کیا ہوا تھا، اب عید کے فوراً بعد میری شادی ہے مجھے ایسا کیا کرنا ہوگا میری شادی بھی ہو جائے اور طلاق بھی نہ ہو؟ جزاک اللہ

  • سائل: رفیض عالممقام: مظفرآباد، آزاد کشمیر، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 31 اکتوبر 2017ء

زمرہ: طلاق   |  تعلیق طلاق

جواب:

اگر طلاق کو کسی امر کے ساتھ مشروط کر دیا جائے تو اُس امر کے سرزد ہونے یعنی شرط پوری ہو جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے:

عَنْ الشَّعْبِیِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتهِ: کُلُّ امْرَأَةٍ أَتَزَوَّجُهَا عَلَیْک فَهَیَ طَالِقٌ، قَالَ: فَکُلُّ امْرَأَةٍ یَتَزَوَّجُهَا عَلَیْهَا، فَهِیَ طَالِقٌ.

حضرت شعبی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تیرے ہوتے ہوئے جس عورت سے بھی شادی کروں اُسے (نئی بیوی کو) طلاق ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اس بیوی کے ہوتے ہوئے جس عورت سے بھی شادی کرے گا اُسے طلاق ہو جائے گی۔

ابن أبي شیبة، المصنف، 4: 65، رقم: 17838، الریاض: مکتبة الرشد

یعنی اُس نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور عورت سے نکاح کرنے کی صورت میں طلاق کی شرط رکھ دی ہے تو جب تک وہ بیوی نکاح میں موجود ہے تو وہ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا اُسے طلاق واقع ہوتی جائے گی۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں:

وَإِذَا أَضَافَهُ إِلَی شَرْطٍ وَقَعَ عَقِیْبَ الشَّرْطِ.

جب خاوند نے طلاق کو شرط سے مشروط کیا تو جب شرط پائی گئی، طلاق ہو جائے گی۔

  1. مرغیناني، الهدایة، 1: 251، المکتبة الاِسلامیة
  2. الشیخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندیة، 1: 420، دار الفکر

اس لیے کوئی بھی شخص جو ہوش و حواس میں بلاجبر و اکراہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرے تو شرط پوری ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔

بصورتِ مسئلہ آپ نے کہا کہ :‘اگر میں نے ایسا کیا ہو تو جب بھی میں شادی کروں میری بیوی کو طلاق‘ آپ نے بتایا کہ وہ کام بھی آپ نے کیا ہوا تھا، گویا طلاق کو آپ نے جس شرط کے ساتھ مشروط کیا وہ شرط پائی جا رہی ہے اس لیے آپ جب نکاح کریں گے اس سے طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔ طلاقِ رجعی میں دورانِ عدت رجوع کرنے سے طلاق کا اثر ختم ہو جائے گا لیکن آپ کے پاس موجود طلاق کا ایک حق استعمال ہونے کے بعد باقی صرف دو حق رہ جائیں گے۔ اگر دورانِ عدت رجوع نہیں کیا گیا تو عدت پوری ہونے پر نکاح ختم ہوجائے گا۔

آپ نے شرط بیان کرتے ہوئے طلاق کا مطلق لفظ بولا تھا اس کی کوئی تعداد نہیں کہی تھی اس آپ کے الفاظ کو طلاق رجعی پر محمول کیا گیا ہے۔ شرط میں آپ نے ’جب بھی شادی کروں‘ کے الفاط بولے ہیں اس لیے یہ شرط آپ کی ہر شادی پر لاگو ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟