کیا مستحق مریض‌ کا علاج کروانے سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہوجائے گی؟

سوال نمبر:4194
السلام علیکم! عرض خدمت ہے کہ مستحق مریض کے علاج کیلئے جو رقم ہسپتال یا ادویات پر خرچ کی جائے گی کیا اُس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی جبکہ اس میں ملکیت نہیں پائی جا رہی۔

  • سائل: ایم ایچ قادریمقام: یو کے
  • تاریخ اشاعت: 20 اپریل 2017ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

مسئلہ زکوٰۃ میں تملیک سے مراد یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والا اپنی ملکیت ختم کردے۔ جب کوئی شخص اپنی زکوٰۃ کو کسی حقدار فرد یا ادارے کو تھما دیتا ہے تو وہ اپنی ملکیت سے دستبردار ہو جاتا ہے اور زکوٰۃ لینے والے کو حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس رقم کو جیسے چاہے خرچ کرے۔ اگر زکوٰۃ کی رقم کسی فلاحی ادارے کو دی ہے تو اسے حق حاصل ہے کہ یہ رقم مستحقین کو دے، مستحق مریض کا اعلاج کروائے یا اس سے ہسپتال تعمیر کر سکتا ہے۔ زکوٰۃ دینے والا اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی اس پر اپنی ملکیت ظاہر کرے یا اپنی مرضی سے خرچ کرے یا خرچ کرنے پر مجبور کرے یا مستحق کی ملکیت ثابت ہی نہ ہو تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟