Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا امام مسجد کو مسجد فنڈ سے تنخواہ دی جاسکتی ہے؟

کیا امام مسجد کو مسجد فنڈ سے تنخواہ دی جاسکتی ہے؟

موضوع: مسجد   |  مسجدکےاحکام

سوال پوچھنے والے کا نام: علی محمد       مقام: صوابی

سوال نمبر 4066:
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے دو سوالات ہیں: (1) اگر امام مسجد، اہلِ محلہ کی طرف سے مہیا کردہ گھر میں رہتا ہو تو کیا اس کے یوٹیلٹی بلز مسجد فنڈ سے ادا کرنا جائز ہے؟ (2) امام مسجد صاحب کا لوگوں کے گھروں سے جا کر کھانا کھانا کیسا ہے، جبکہ ان کے اپنے گھر میں سب کچھ موجود ہو؟

جواب:

آپ کے دونوں سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. اہلِ محلہ اور مسجد انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ امام مسجد کی رہائش اور مناسب تنخواہ مقرر کریں تاکہ وہ گھر کے اخراجات بہ آسانی پورے کر سکیں۔ جس طرح مسجد کو آباد رکھنے کے لیے مسجد کے کاموں پر مسجد فنڈ سے ادائیگی کی جاتی ہے اسی طرح امام مسجد کو رہائش اور تنخواہ بھی مسجد فنڈ سے ادا کی جاسکتی ہے۔ اگر انتظامیہ امام مسجد کی رہائش کے یوٹیلٹی بلز بھی ادا کرنے کی ذمہ داری لیتی ہے تو بھی مسجد فنڈ سے ادا کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ امام مسجد کی رہائش اور مناسب تنخواہ مقرر کی جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے زندگی گزار سکے۔
  2. گھر میں سب کچھ ہوتے ہوئے لوگوں کے گھروں میں کھانے کے لیے جانا امام مسجد کے منصب کے خلاف ہے۔ انہیں عزت و وقار کے ساتھ اپنے گھر سے کھانا کھانا چاہیے۔ لوگوں کے گھروں میں کھانا مانگنے کے لیے جانا کوئی اچھی عادت نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-01-12


Your Comments