کیا امام مسجد کو مسجد فنڈ سے تنخواہ دی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:4066
السلام علیکم مفتی صاحب! میرے دو سوالات ہیں: (1) اگر امام مسجد، اہلِ محلہ کی طرف سے مہیا کردہ گھر میں رہتا ہو تو کیا اس کے یوٹیلٹی بلز مسجد فنڈ سے ادا کرنا جائز ہے؟ (2) امام مسجد صاحب کا لوگوں کے گھروں سے جا کر کھانا کھانا کیسا ہے، جبکہ ان کے اپنے گھر میں سب کچھ موجود ہو؟

  • سائل: علی محمدمقام: صوابی
  • تاریخ اشاعت: 12 جنوری 2017ء

زمرہ: مسجد کے احکام و آداب

جواب:

آپ کے دونوں سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. اہلِ محلہ اور مسجد انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ امام مسجد کی رہائش اور مناسب تنخواہ مقرر کریں تاکہ وہ گھر کے اخراجات بہ آسانی پورے کر سکیں۔ جس طرح مسجد کو آباد رکھنے کے لیے مسجد کے کاموں پر مسجد فنڈ سے ادائیگی کی جاتی ہے اسی طرح امام مسجد کو رہائش اور تنخواہ بھی مسجد فنڈ سے ادا کی جاسکتی ہے۔ اگر انتظامیہ امام مسجد کی رہائش کے یوٹیلٹی بلز بھی ادا کرنے کی ذمہ داری لیتی ہے تو بھی مسجد فنڈ سے ادا کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ امام مسجد کی رہائش اور مناسب تنخواہ مقرر کی جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے زندگی گزار سکے۔
  2. گھر میں سب کچھ ہوتے ہوئے لوگوں کے گھروں میں کھانے کے لیے جانا امام مسجد کے منصب کے خلاف ہے۔ انہیں عزت و وقار کے ساتھ اپنے گھر سے کھانا کھانا چاہیے۔ لوگوں کے گھروں میں کھانا مانگنے کے لیے جانا کوئی اچھی عادت نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟