کیا شادی کے لیے لڑکے کا برسرِ‌ روزگار ہونا ضروری ہے؟

سوال نمبر:3970
السلام علیکم مفتی صاحب! میں بی کام کا طالب علم ہوں‌ اور گھر والے شادی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمارا گھرانہ مالی حوالے سے مضبوط ہے تاہم میں‌ ابھی خود کوئی کام نہیں‌ کرتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا شادی کے لیے لڑکے کا خود کمانا ضروری ہے؟ کیونکہ بیوی اور بچوں‌ کے اخراجات کے لیے والدین سے پیسے طلب کرنا عزت نفس کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ والدین یہی کہتے ہیں‌ کہ جو کچھ ان کے پاس ہے وہ سب اولاد کا ہی ہے، جس طرح چاہے اسعمال کریں، یہ بات کس حد تک درست ہے؟براہِ‌ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔

  • سائل: خلیل خانمقام: ڈیرہ غازی خان
  • تاریخ اشاعت: 23 جولائی 2016ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

اگر آپ کے گھر والے آپ کا معاشی بوجھ بانٹنے اور ازدواجی زندگی میں‌ بھی آپ کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں تو آپ شادی کر لیں۔ والدین ساری زندگی اولاد کے لیے ہی کماتے ہیں۔ اگر وہ مالی طور پر اس قدر مضبوط ہیں کہ تعلیم مکمل ہونے تک آپ کی مدد کر سکتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہے، آپ ان کی بات مان کر شادی کر لیں، بہت سے گناہوں سے حفاظت ہو جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟