Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - حالتِ جنابت میں سحری کھانے کا کیا حکم ہے؟

حالتِ جنابت میں سحری کھانے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: روزہ  |  سحر و افطار کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: غلام دستگر       مقام: منگلا ڈیم

سوال نمبر 3958:
حالتِ جنابت میں سحری کا کیا حکم ہے؟ اگر غسل کا وقت نہ ہو تو کیا حالت جنابت میں‌ سحری کر سکتے ہیں؟

جواب:

وقت کی قلت کے سبب اگر فوری غسل کرنا ممکن نہ ہو تو حالتِ جنابت میں سحری کرنا جائز ہے۔ حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے والد ماجد کے ساتھ گیا۔ یہاں تک کہ ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے فرمایا:

اَشْهَدُ عَلَی رَسُولِ اﷲِ إِنْ کَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَی اُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِکَ.

’’میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اگر احتلام سے (ہی) نہیں، جماع سے جنابت کی حالت میں صبح ہوتی تو روزہ رکھ لیا کرتے۔ پھر ہم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُنہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔‘‘

  1. بخاري، الصحيح، 2: 681، رقم: 1830، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 2: 780، رقم: 1109، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

لہٰذا مجبوری کی وجہ سے حالتِ جنابت میں سحری کر سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2016-06-22


Your Comments