کیا زانی، مزنیہ کی بیٹی سے نکاح‌ کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:3922
السلام علیکم مفتی صاحب! ایک شخص کے کسی عورت اور اس کی بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ عرصہ ایک سال سے اس شخص نے سچی توبہ کر لی ہے۔ اب وہ شخص اور لڑکی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ شادی کر سکتے ہیں؟

  • سائل: افتخار احمدمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 28 مئی 2016ء

زمرہ: زنا و بدکاری

جواب:

فقہائے احناف کے نزدیک جس شخص کے کسی خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات رہے ہوں، وہ اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ عزت، غیرت اور تقدس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ شخص ان ماں، بیٹی کے ساتھ نکاح نہ کرے۔ اگر ایک کے ساتھ نکاح ہوگا تو دوسری کس منہ سے اس کے سامنے آئے گی؟ رشتوں کا تقدس کیسے پیدا ہوگا؟ اور دوبارہ پہلے والے تعلق کے جاگنے کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہماری دانست میں اس شخص کو وہاں نکاح نہیں کرنا چاہیے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

ساس کو شہوت سے چھونے سے کیا اس کی بیٹی سے نکاح‌ برقرار رہے گا؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟