کیا بیٹے کی موجودگی میں مورث کی بہنوں کو حصہ ملے گا؟

سوال نمبر:3842
السلام علیکم! محترم فقہائے دین اس بارے میں کیا جواب دیں گے کہ مُتوفی یعقوب کا اک گھر ہے جو اس نے اپنی حیات میں لیا تھا۔ یعقوب کے ورثا میں اس کی 3 بہنیں، ایک بیوہ جس نے دوسری شادی کی ہے اور ایک بیٹا سلمان شامل ہے۔ کیا یعقوب کی وراثت میں سے اس کی بہنوں کو حصہ ملے گا؟ جبکہ بیٹا سلمان ابھی 7 سال کا ہے اور اسکی پرورش ابھی ماں ہی کررہی ہے۔

  • سائل: کفایت الرحمٰنمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 15 مارچ 2016ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

مرحوم یعقوب کی تجہیز و تکفین پر اٹھنے والے اخراجات کے بعد اس کی منقولہ و غیرمنقولہ کل جائیداد میں سے آٹھواں حصہ (1/8) اس کی بیوہ کو ملے گا۔ باقی تمام جائیداد اس کے بیٹے کو ملے گی۔ بیٹے کی موجودگی میں بہن وارث نہیں ہوتی، اس لیے مرحوم کی جائیداد میں اس کی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟