علامہ اقبال کی نظموں‌ ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3835
بعض لوگ علامہ اقبالؒ کی شکوہ اور جواب شکوہ جیسی نظموں کو غیر شرعی اور کفریہ قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں راہنمائی درکار ہے؟

  • سائل: عمر جاویدمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 14 مارچ 2016ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ نہ تو کفریہ شاعری پر مبنی ہیں اور نہ ہی ان کے پڑھنے میں کوئی شرعی قباحت ہے۔ علامہ نے شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ پیش کیا ہے، جبکہ جواب شکوہ میں اس تنزلی کے اسباب بیان کیے ہیں۔ شکوہ اور جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کی فکری و اعتقادی گمراہیوں، اخلاقی کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بےنقاب کیا ہے۔ ان نظموں کی اثرانگیزی بےمثال ہے، یہی وجہ ہے کہ ان نظموں کو پڑھنے اور سننے والا تڑپ اٹھتا ہے۔ غلو، انتہاپسندی اور تکفیر سے اجتناب کرتے ہوئے ہمیں‌ اس پیغام کو سمجھنا چاہیے جو علامہ اقبال نے ان نظموں‌ میں دیا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟