Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سرکاری زمین پر بغیراجازت کے مسجد بنانا جائز ہے؟

کیا سرکاری زمین پر بغیراجازت کے مسجد بنانا جائز ہے؟

موضوع: مسجد   |  مسجدکےاحکام

سوال پوچھنے والے کا نام: اخلاص احمد خان       مقام: سلطانپور، انڈیا

سوال نمبر 3787:
السلام علیکم! ہمارے یہاں‌ مسجد کے ساتھ متصل سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا ہے۔ کیا اس زمین کو بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد میں شامل کرسکتے ہیں اور وہاں‌ وضو خانہ یا واش روم وغیرہ بنوا سکتے ہیں؟

جواب:

سرکاری زمین پر بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد تعمیرکرنا شرعی، قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ اگر آپ مسجد سے متصل زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ کیونکہ سرکاری زمین پر حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد بنانے سے زمین سرکار کی ملکیت میں ہی رہے گی اور سرکار کو اس میں تصرف کرنے اور وہاں سے مسجد ہٹانے کا اختیار باقی رہے۔ ایسا کرنے سے بعد میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بسا اوقات حکومت کی طرف سے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے جس سے اشتعال جنم لیتا ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر صرف اس جگہ پر اور اتنی ہی جگہ پر کی جائے جتنی مسجد کے لیے خریدی گئی ہے، یا اسے کسی نے وقف کیا ہے۔

اس لیے اگر آپ سرکاری زمین پر مسجد بنانا چاہتے ہیں یا مسجد سے متصل سرکاری زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت سے اس کی اجازت لیں یا زمین کی قیمت دے کر رضامندی سے خرید لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2016-02-11


Your Comments