والدین کے ناجائز مطالبات پر اولاد کے لیے کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3777
السلام علیکم! مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں صرف والدین کے ہی حقوق بیان ہوئے ہیں؟ کیا اولاد کا ماں باپ پر کوئی حق نہیں؟ ایسے والدین جو اولاد کے ساتھ بلاوجہ زیادتی کریں، نیک، صالح اور بےقصور بیوی کو چھوڑنے اور تنگ کرنے پو مجبور کریں، ناجائز مطالبات میں‌ اولاد کو ساتھ ملائیں اور ساتھ نہ دینے پر نافرمان کا حکم جاری کریں، اسلام ان کے بارے میں‌ کیا حکم جاری کرتا ہے؟ کیا اولاد ان کی ہر زیادتی کو برداشت کرتی رہے گی اور اپنی حق تلفی پر بھی آواز اٹھانے کا حق نہیں‌ رکھتی؟

  • سائل: سید اوصاف علیمقام: شیخوپورہ
  • تاریخ اشاعت: 02 فروری 2016ء

زمرہ: اولاد کے حقوق

جواب:

اسلام نے جس طرح والدین کو حقوق عطا کیے ہیں اسی طرح ان پر کچھ فرائض بھی عائد کیے ہیں، تاکہ فطری تقاضے قائم رہیں اور کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔اﷲ تعالیٰ نے جہاں اولاد پر والدین کی خدمت کا فرض عائد کیا ہے، وہیں اولاد کی صالح خطوط پر پرورش، تعلیم و تربیت کی فراہمی اور عائلی و معاشرتی زندگی کی سمجھ بوجھ سے آراستہ کرنا والدین کا فرض قرار دیا۔ اولاد کے حقوق، والدین کے فرائض ہیں اور والدین کے حقوق، اولاد کے فرائض ہیں۔ اسلام میں حقوق اور فرائض باہمی طور پر مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر تصور کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں فرائض، واجبات اور ذمہ داریوں پر بھی حقوق کے ساتھ ساتھ یکساں زور دیا گیا ہے۔ اسلام مطالبہ حق (Demand of Rights) کی بجائے ایتائے حق (Fulfilment of Rights) کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد دوسرے افراد کے حقوق کی ادائیگی کے لئے کمربستہ رہے۔ اولاد سمیت مخلتف افرادِ معاشرہ کے حقوق و فرائض کے تفصیلی مطالعے کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی درج ذیل کتاب کا مطالعہ کریں:

اسلام میں انسانی حقوق

والدین ہوں یا کوئی اور ہو، جب کسی ایسے کام کے کرنے کا کہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روکا ہو تو ان کا حکم نہیں مانا جائے گا۔ اللہ تعالی کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے اگر والدین آپ کو بیوی کے ساتھ زیادتی کرنے، اسے تنگ کرنے یا اسے طلاق دینے کا کہیں تو ان کاموں میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ گناہ کے کام اور ناجائز مطالبات میں بھی والدین کا ساتھ نہ دیں۔ تاہم والدین سے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں، وہ اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اولاد کے لیے قابلِ احترام ہوتے ہیں۔ اپنے والدین کی خدمت جاری رکھیں، انہیں ادب و احترام سے ملیں، ان کی ضروریات پوری کریں، آپ اپنا فرض نبھاتے رہیں۔ وہ چاہے ناراض بھی ہوتے رہیں، آپ والدین سے ناراض نہ ہوں۔ ان کے ساتھ بحث اور مباحثہ نہ کریں تاکہ ان کی بےادبی نہ ہو۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اپنی اولاد کی زندگیاں یوں تباہ وبرباد نہ کریں۔ اللہ تعالی ہمیں ہدایت نصیب فرمائے، آمین۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟