دھات سے بنی گھڑی پہن کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3716
السلام علیکم! ایسی گھڑی جس کی چین کسی دھات کی بنی ہو، اور ایسی پرفیوم جس میں الکوحل ہو کیا ان کے ساتھ نماز ہو جاتی ہے؟

  • سائل: عبدالرحمٰنمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 21 ستمبر 2015ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

دھاتی چین والی گھڑی پہننے کی ممانعت نہیں، اس لیے ایسی گھڑی پہن کر نماز ادا کرنا بھی جائز ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں۔

دوسری بات یہ کہ الکوحل پرفیوم کو منجمد ہونے سے بچانے کے لیے اس میں ڈالا جاتا ہے۔ جب پرفیوم کو استعمال کیا جاتا ہے تو الکوحل ہوا میں اڑ کر تحلیل ہوجاتا ہے۔ کپڑوں پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے پرفیوم لگے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟