Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا لڑکیاں مروجہ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں؟

کیا لڑکیاں مروجہ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں؟

موضوع: تعلیم نسواں

سوال پوچھنے والے کا نام: میر محمد نصیر       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 3581:
السلام علیکم! کتاب و سنت کے حوالےسے بتائے کہ کیا عورت نوکری کرسکتی ہے؟ اگر اُس کے پاس کوئی ذریعہ معاش ہو یا نہ ہو۔ نیز کیا لڑکیاں مروجہ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں؟

جواب:

شرعی حدود و شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے عورت کے لئے معاشی جدوجہد جائز ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: عورت کی ملازمت کی جائز صورتیں کون سی ہیں؟

جس طرح لڑکے مروجہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح لڑکیاں بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ تاہم تعلیم لڑکوں کی ہو یا لڑکیوں کی، ضروری ہے کہ اس کے ساتھ تربیت کا بھی پورا نظام قائم کیا جائے۔ بدقسمتی سے ہر شعبہ میں مغرب کی اندھی تقلید ہماری معاشرت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی خدا بیزار مغربی تہذیب سے متاثرہ شعبوں میں سے ایک ہے۔ ہماری ضرورت ایسا تعلیمی نظام ہے  ظاہری نمائش سے کہیں زیادہ باطنی خوبصورتی زور دے، اور یہ باطنی خوبیاں اخلاق اور مذہب کی تعلیم نیز اچھی تربیت کے بغیر ناپید ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2015-04-15


Your Comments