کیا رضاعت سے بھی رشتے محرم بنتے ہیں؟

سوال نمبر:3559
السلام علیکم! ثاقب اور سدرہ کزنز اور میاں بیوی ہیں۔ دونوں کی شادی کو دس (10) سال ہوگئے، مگر اولاد نہیں ہوئی۔اب سدرہ نے اپنے بھائی کی بیٹی گود لی ہے۔ کیا یہ بیٹی ثاقب کیلئے غیر محرم ہوگی؟ اوراگر سدرہ کسی طرح اپنا دودھ پلا کر اسے اپنی رضائی بیٹی بنالے تو اب یہ بیٹی ثاقب کیلیے محرم ہوجائےگی؟ یا غیرمحرم ہی رہے گی؟ شرعی رہنمائی فرما دیجیئے۔ شکریہ

  • سائل: لیاقت علی اعوانمقام: اوکاڑہ
  • تاریخ اشاعت: 20 اپریل 2015ء

زمرہ: احکام رضاعت

جواب:

مذکورہ خاتون سدرہ اگر گود لی گئی بچی کو اس کی اڑھائی سال کی عمر کے اندر دودھ پلا لے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی۔ ثبوتِ رضاعت کے بعد بچی اس کے شوہر کے لیے غیرمحرم نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة.

ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔

امام مالک، الموطا، رقم: 7881

اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

رضاعت کتنی عمر تک ثابت ہوتی ہے؟

 لیکن اگر بچی کی عمر اڑھائی سال سے زیادہ ہے، تو دودھ پلانے کے باوجود رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں بچی مذکورہ خاتون کے شوہر سے شرعی پردہ کرے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟