Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا رضاعت سے بھی رشتے محرم بنتے ہیں؟

کیا رضاعت سے بھی رشتے محرم بنتے ہیں؟

موضوع: احکام رضاعت

سوال پوچھنے والے کا نام: لیاقت علی اعوان       مقام: اوکاڑہ

سوال نمبر 3559:
السلام علیکم! ثاقب اور سدرہ کزنز اور میاں بیوی ہیں۔ دونوں کی شادی کو دس (10) سال ہوگئے، مگر اولاد نہیں ہوئی۔اب سدرہ نے اپنے بھائی کی بیٹی گود لی ہے۔ کیا یہ بیٹی ثاقب کیلئے غیر محرم ہوگی؟ اوراگر سدرہ کسی طرح اپنا دودھ پلا کر اسے اپنی رضائی بیٹی بنالے تو اب یہ بیٹی ثاقب کیلیے محرم ہوجائےگی؟ یا غیرمحرم ہی رہے گی؟ شرعی رہنمائی فرما دیجیئے۔ شکریہ

جواب:

مذکورہ خاتون سدرہ اگر گود لی گئی بچی کو اس کی اڑھائی سال کی عمر کے اندر دودھ پلا لے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی۔ ثبوتِ رضاعت کے بعد بچی اس کے شوہر کے لیے غیرمحرم نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة.

ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔

امام مالک، الموطا، رقم: 7881

اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

رضاعت کتنی عمر تک ثابت ہوتی ہے؟

 لیکن اگر بچی کی عمر اڑھائی سال سے زیادہ ہے، تو دودھ پلانے کے باوجود رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ اس صورت میں بچی مذکورہ خاتون کے شوہر سے شرعی پردہ کرے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2015-04-20


Your Comments