رضاعت کتنی عمر تک ثابت ہوتی ہے؟

سوال نمبر:3413
رضاعت کی شرعی مدت کیا ہے؟

  • سائل: منیر حسینمقام: ڈیرہ اسماعیل خان
  • تاریخ اشاعت: 11 دسمبر 2014ء

زمرہ: احکام رضاعت

جواب:

رضاعت کا لغوی معنیٰ:

علامہ زین الدین ابن نجیم الحنفی کے بقول:

لغت میں رِضَاع اور رَضَاع دونوں مستعمل ہیں، اور ان کا معنیٰ ہے ’’عورت کا پستان چوسنا‘‘

رضاعت کا شرعی و اصطلاحی معنیٰ:

عورت کے پستان سے مدتِ رضاعت میں بچے کے پیٹ میں دودھ پہنچنا، خواہ بچہ خود منہ کے ذریعے دودھ چوسے یا کسی اور طریقے سے اس کے پیٹ میں پہنچایا جائے۔

ابن نجيم، البحرالرائق، 3: 237، دارالمعرفة، بيروت، لبنان

ثبوتِ رضاعت کی صورتیں:

رضاعت کے ثبوت کے لیے مختلف طریقے اور صورتیں ہو سکتی ہیں:

  • مدت رضاعت میں بچہ خود دودھ چوسے
  • بچے کے حلق میں دودھ ٹپکایا جائے
  • ناک کے راستے پیٹ میں دودھ پہنچایا جائے

درج بالا طریقوں یا کسی اور عمل کے ذریعے عورت کا دودہ مدت رضاعت کے اندر بچے کے پیٹ میں جانے سے رضاعت ثابت ہو جائے گی۔

ثبوتِ رضاعت کی مدت:

 قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں۔

البقرة، 2: 233

اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ

اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے

لقمان، 31: 14

اللہ تعالیٰ نے حمل اور رضاعت کی مدت کو اکٹھا بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا

اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانہ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔

الاحقاف، 46: 15

حدیث مبارکہ میں ہے:

عن سلمة قالت رسول الله صلی الله عليه وسلم لا يحرم من الرضاعة إلا ما فتق الأمعاء في الثدي وكان قبل الفطام

حرمت صرف اُس رضاعت سے ثابت ہوتی ہے، جس سے میں بچے کی آنتیں صرف پستانوں کے دودھ سے کھلیں، اور یہ دودھ چھڑانے کی مدت سے قبل ہو۔

ترمذی، السنن، كتاب الرضاع، 3: 458، رقم: 1152، دار احياء التراث العربي، بيروت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ کا قول ہے:

لا رضاعة إلا ما كان في الحولين

رضاعت وہ ہے جو دو (2) سال کے اندر ہو۔ (یعنی جس سے خون اورگوشت بنے۔)

مالك بن انس، الموطأ، كتاب الرضاع، 2: 607، رقم : 1267، دار إحياء التراث العربي، مصر

اس سلسلہ میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ:

جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال إني كانت لي وليدة وكنت أطؤها فعمدت امرأتي إليها فأرضعتها فدخلت عليها فقالت دونك فقد والله أرضعتها فقال عمر أوجعها وأت جاريتك فإنما الرضاعة رضاعة الصغير

ایک شخص حضرت عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ کے پاس آکرکہنے لگا: میری ایک لونڈی تھی جس سے میں ہم بستر ہوتا تھا، اب میری بیوی نے اسے دودھ پلادیا ہے۔ میں جب اس کے پاس جانے لگا، تومیری بیوی نے مجھے بتایا کہ اس سے دور رہو، اللہ کی قسم میں نے اسے دودھ پلادیا ہے۔ حضرت عمررضي اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: بیوی کو سزا دو اوراپنی لونڈی کے پاس جاؤ، اس لیے کہ رضاعت تو بچپن میں ہوتی ہے۔

مالك بن انس، الموطأ، كتاب الرضاع، 2: 606، رقم : 1266

اقوالِ آئمہ:

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک رضاعت کی مدت تیس ماہ ہے، ان کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیتِ مبارکہ ہے:

وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا

اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانہ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔

الاحقاف، 46: 15

صاحبین (امام ابویوسف اور امام محمد) کے نزدیک مدتِ رضاعت دو سال ہے۔ امام شافعی کا بھی یہی موقف ہے۔ صاحبین اور امام شافعی کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ ہے:

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں۔

البقرة، 2: 233

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

عن ابن عباس قال کان يقول لا رضاع بعد حولين کاملين

حضرت عبداللہ بن عباس فرمایا کرتے تھے پورے دو سال کے بعد رضاعت نہیں

  1. دار قطني، السنن، 4: 173، رقم: 9، دارالمعرفة، بيروت
  2. بيهقي، السنن الکبریٰ، 7: 458، رقم: 15423، مکتبه دارالباز، مکة المکرمة

امام مالک رضی اللہ عنہ کے نزدیک دو سال سے اوپر ایک یا دو ماہ کے اضافے میں بھی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔

علامہ ابوبکر علاؤالدین الکاسانی فرماتے ہیں:

قال ابو حنيفة ثلاثون شهراً و لايحرم بعد ذٰلک سوء فطم او لم يفطم و قال ابويوسف و محمد حولان لايحرم بعد ذٰلک فطم او لم يفطم و هو قول الشافعی

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک مدتِ رضاعت تیس مہینے ہے، اس کے بعد حرمت ثابت نہیں ہوتی چاہے بچے کا دودھ چھڑایا گیا ہو یا نہ چھڑایا گیا ہو۔ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک یہ مدت دو سال ہے، اس کے بعد حرمت ثابت نہیں ہوتی چاہے دودھ چھڑایا گیا ہو یا نہ چھڑایا گیا ہو۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

الکاسانی، بدائع اصنائع، 4: 6، دارالکتاب العربی، بيروت

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ دو سے اڑھائی سال کے دوران کسی عورت کا دودھ بچے کے پیٹ میں جانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ جمہور آئمہ کے نزدیک مدت رضاعت دو سال، جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک احتیاطاً اڑھائی سال ہے۔ امام اعظم کا موقف احتیاط کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک بھی مدت رضاعت اڑھائی سال ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟