کیا مسلمان کسی غیر مسلم کے ساتھ کھانا کھا سکتا ہے؟

سوال نمبر:3551
کیا مسلمان کسی غیرمسلم (ہندو، سکھ اور عیسائی وغیرہ) کا جوٹھا کھا یا پی سکتا ہے؟ ان کے برتن استعمال کر سکتا ہے؟ جبکہ وہ غیرمسلم کوئی حرام چیز نہیں کھاتا یا پیتا اور اگر وہ حرام چیزیں (شراب، سور) کھاتا ہو تو پھر کیا حکم ہے؟

  • سائل: محمد ہارونمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 27 اکتوبر 2015ء

زمرہ: خور و نوش  |  معاشرت

جواب:

کسی بھی غیرمسلم کے استعمال شدہ برتن دُھلنے کے بعد مسلمان کے لیے قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا غیر مسلم کے ہاتھوں‌ پکا ہوا گوشت کھانا جائز ہے؟

غیرمسلم کا جوٹھا کھانے کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ حرام کھانے جن کو کھانا ہمارے لیے جائز نہیں، وہ کسی بھی صورت میں نہیں کھائے جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر غیرمسلم حلال کھانا کھا رہا ہو تو باوقار طریقے سے اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟