’جنازہ میں‌ چالیس آدمیوں‌ کی شرکت سے مردہ کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘ اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟

سوال نمبر:3531
السلام علیکم! حدیث مبارکہ کے مطابق جس انسان کی نماز جنازہ میں چالیس (40) مسلمانوں‌ نے شرکت کی تو اللہ تعالی بھی اس کو معاف فرما دیں‌ گے۔ اب ایک ایسا بندہ جس نے دنیا میں ظلم و ستم اور لوگوں‌ کے ساتھ ناانصافی کرتا رہا، اس آدمی کے فوت ہونے کے بعد سینکڑوں لوگ اس کے جنازہ میں‌ شریک ہوتے ہیں، تو اب اس ظالم انسان کی معافی کے حوالے سے کیا حکم ہے۔ دلائل سے تشریح فرمائیں۔ شکریہ

  • سائل: محمد سلیممقام: الٰہ آباد
  • تاریخ اشاعت: 16 مارچ 2015ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

گناہوں كا كفارہ بننے والے بہت سے اعمال ہيں جن ميں توبہ و استغفار، اطاعت و فرمانبردارى اور مرنے کے بعد جنازہ و دیگر ایصالِ ثواب وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم يہ تمام اعمال صغيرہ گناہوں اور اللہ تعالى كے حقوق اللہ كا كفارہ بنتے ہيں۔ کبائر معاصی اور حقوق العباد بغیر توبہ كے معاف نہيں ہوتے، اور ان کی توبہ غصب کردہ حقوق حقداروں کو واپس کرنے سے مشروط ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟