مرد کتنی مقدار میں سونا اور چاندی استعمال کرسکتا ہے؟

سوال نمبر:3520
مرد سونے اور چاندی کی کتنی مقدار استعمال کرسکتا ہے؟

  • سائل: اصغر علیمقام: نیپال
  • تاریخ اشاعت: 04 مارچ 2015ء

زمرہ: معاشرت  |  پردہ و حجاب اور لباس

جواب:

حضرت معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث مبارکہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رضی اﷲ عنهما یَقُولُ نَهَانَا النَّبِيُّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم عَنْ سَبْعٍ نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ اَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِیرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّیبَاجِ وَالْمِیثَرَةِ الْحَمْرَائِ وَالْقَسِّيِّ وَانِیَةِ الْفِضَّةِ وَاَمَرَنَا بِسَبْعٍ بِعِیَادَةِ الْمَرِیضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ

میں (معاویہ بن سوید) نے حضرت برا بن عازب رضی اﷲ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات (7) باتوں سے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی یا سونے کا چھلا، ریشم، استبرق، دیباج سرخ گدوں، قسی (ایک قسم کا ریشمی کپڑا) اور چاندی کے برتن، اور سات (7) باتوں کا ہمیں حکم دیا ہے: یعنی بیمار کی مزاج پرسی کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، چھینکنے والے کو جواب دینا، سلام کا جواب دینا، دعوت کو قبول کرنا، قسم کو پورا کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2202، رقم: 5525، دار ابن کثیر الیمامة بیروت
  2. مسلم، الصحیح، 3: 1635، رقم: 2066، دار احیاء التراث العربي بیروت

عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی اﷲ عنهما اَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله علیه وآله وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا یَلِي کَفَّهُ فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ فَرَمَی بِهِ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ اَوْ فِضَّة

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی پہنی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا تو لوگوں نے بھی پہننی شروع کردیں، بعد ازاں آپ نے وہ پھینک دی اور چاندی کی انگوٹھی تیار کروالی۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2202، رقم: 5527
  2. مسلم، الصحیح، 3: 1656، رقم: 2091
  3. ابي داود، السنن، 4: 88، رقم: 4218، دار الفکر

درج بالا حدیث کی تشریح کرتے ہوئے حضرت علامہ علی بن سلطان محمد القاری المعروف ملا علی قاری فرماتے ہیں:

’’یہ اس وقت کی بات ہے جب مردوں پر سونا حرام نہیں ہوا تھا۔ امام محمد رحمہ اﷲ علیہ نے ’’موطا‘‘ میں فرمایا ہے کہ مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ سونے، لوہے اور پیتل کی انگوٹھی بنائے۔ البتہ چاندی کی انگوٹھی بنانے کی اجازت ہے، جبکہ عورتوں کے لیے سونے کی انگوٹھی بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام نووی رحمہ اﷲ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس بات پر اجماع ہے کہ عورتوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز اور مردوں کے لیے حرام ہے۔‘‘

ملا علی قاري، مرقاة المفاتیح، 8: 242، دار الکتب العلمیة بیروت

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما اَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله علیه وآله وسلم اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ اَوْ فِضَّة وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا یَلِي کَفَّهُ وَنَقَشَ فِیهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اﷲِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ مِثْلَهُ فَلَمَّا رَاهُمْ قَدْ اتَّخَذُوهَا رَمَی بِهِ وَقَالَ لَا اَلْبَسُهُ اَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّة فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِیمَ الْفِضَّةِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَ النَّبِيِّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم اَبُوبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ حَتَّی وَقَعَ مِنْ عُثْمَانَ فِي بِئْرِ اَرِیسَ

حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا اور اس کے اندر محمد رسول اﷲ نقش کروایا۔ پس لوگوں نے بھی اسی طرح کی پہن لیں۔ جب آپ نے انہیں پہنے ہوئے دیکھا تو اپنی انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا: میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی، تو لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی حضرت ابو بکر نے پہنی، پھر حضرت عمر نے اور پھر حضرت عثمان نے یہاں تک کہ حضرت عثمان سے وہ اریس کے کنویں کے اندر گرگئی۔

  1. بخاري، الصحیح، 5: 2202، رقم: 5528
  2. مسلم، الصحیح، 3: 1656، رقم: 2091

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَیْدَة عَنْ اَبِیهِ اَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صلیٰ الله علیه وآله وسلم وَعَلَیْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ فَقَالَ لَهُ مَا لِي اَجِدُ مِنْکَ رِیحَ الْاَصْنَامِ فَطَرَحَهُ ثُمَّ جَاءَ وَعَلَیْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِیدٍ فَقَالَ مَا لِي اَرَی عَلَیْکَ حِلْیَة اَهْلِ النَّارِ فَطَرَحَهُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اﷲِ مِنْ اَيِّ شَيْئٍ اَتَّخِذُهُ قَالَ اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا

عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے پیتل کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے کہ مجھے تم میں سے بتوں کی بو آرہی ہے؟ اس نے وہ پھینک دی اور پھر لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوا، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں دوزخیوں کا زیور پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ تو اس نے وہ پھینک دی، اور عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چاندی کی پہنو جو ایک مثقال سے کم ہو۔

  1. ابي داود، السنن، 4: 90، رقم: 4223
  2. ترمذي، السنن، 4: 248، رقم: 1785، دار احیاء التراث العربي بیروت

حضرت علامہ ملا علی قاری، اس حدیث مبارکہ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’علامہ ابن الملک رحمہ اﷲ علیہ مظہر کی اتباع میں فرماتے ہیں یہ نہی ’’ارشاد الی الورع‘‘ ہے، اس لئے کہ اولیٰ یہ ہے کہ انگوٹھی کا وزن مثقال سے کم ہو۔ کیونکہ یہ اسراف سے بعید ہے اور اس طرح یہ تکبر سے بھی بعید ہے۔ شوافع کے کچھ علماء تو کہتے ہیں کہ مثقال سے زائد حرام ہے، لیکن بعض دوسرے علماء نے اس کے جواز کو ترجیح دی ہے۔ ان مجوزین میں حافظ عراقی رحمہ اﷲ علیہ بھی ہیں انہوں نے ’’شرح الترمذی‘‘ میں کہا ہے کہ نہی مذکور تنزیہ پر محمول ہے۔ ترمذی اور نسائی نے اس کو سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے، بلکہ ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

ملا علی قاري، مرقاة المفاتیح، 8: 253

امام الفقہ علامہ محمد بن علی بن محمد علاء الدین حصنی دمشقی المعروف حصفکی رحمہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

لاباس بازرار الدیباج والذهب

ریشم اور سونے کی گھنڈی (قمیض کے بٹن) کے استعمال میں کچھ حرج نہیں۔

حصفکي، الدر المختار، 6: 355، دار الفکر بیروت

ولا یتحلی الرجل بذهب وفضة مطلقا الا بخاتم ومنطقة وحلیة سیف منها اي الفضة اذا لم یرد به التزین

کوئی شخص مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے، سوائے چاندی کی انگوٹھی، کمر بند اور تلوار کی دستی کے، جب زیب و زینت اور نمائش کا ارادہ نہ ہو۔

حصفکي، الدر المختار، 6: 358، 359

شیخ نظام الدین اور ان کے ساتھ علماء ہند فتاوٰی عالمگیری میں لکھتے ہیں:

لاباس بلبس الثوب في غیر الحرب اذا کان ازاره دیباجا او ذهبا

جنگ کے علاوہ اگر ایسا کپڑا پہنے کہ جس کے بٹن ریشمی یا سونے کے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔

الشیخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوٰی الهندیة، 5: 332، دار الفکر

خلاصہ کلام:

مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ سونے، چاندی یا کسی دوسری دھات کے زیورات پہننا جائز نہیں۔ چاندی کی انگوٹھی کا وزن ایک مثقال سے کم ہونا چاہیے، جو کہ چار (4) ماشے (3.03775 گرام) کے برابر ہے۔ اسی طرح سونے، چاندی کے برتنوں میں کھانا عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے حرام ہے۔

مرد دانت، ناک یا کوئی بھی ضائع ہوجانے والا عضو سونے، چاندی یا کسی اور دھات کا لگوا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرد سونے، چاندی کے بنے ہوئے بٹن بھی قمیص کو لگوا سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟