Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جنبی کے بارے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں؟

جنبی کے بارے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں؟

موضوع: نجاستیں   |  طہارت

سوال نمبر 351:
جنبی کے بارے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں؟

جواب:

جنبی (حالتِ جنابت میں مبتلا شخص) کے بارے میں شریعت کے احکامات درج ذیل ہیں :

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَا تَقْرَإ الْحَائِضُ، وَلَا الجُنُبُ شَيْئًا مِّنَ الْقُرْآنِ.

ترمذی، السنن، أبواب الطهارة، باب ماجاء فی الجنب والحائض أنهما لا يقران القران، 1 : 174، رقم : 131

’’جنبی اور حائضہ قرآن مجید سے کچھ نہ پڑھے (نہ تھوڑا نہ بہت)۔‘‘

1۔ کوئی ایسا شرعی کام جو بغیر وضو کے نہیں کیا جا سکتا حالتِ جنابت میں اس کا کرنا حرام ہے جیسا کہ ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا حرام ہے خواہ نفل نماز ہو یا فرض۔

2۔ جس گھر میں جنبی ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے فرمایا :

لَا تَدْخُلُ الْمَلآئِکَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُوْرَةٌ وَلَا کَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ.

ابوداؤد، السنن، کتاب اللباس، باب في الصور : 4 : 43، رقم : 4152

’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر یا کتا یا جنبی ہو۔‘‘

3۔ جنبی کے لیے قرآن حکیم کو پڑھنا اور چھونا حرام ہے۔

4۔ جنبی کے لیے ایسی انگوٹھی اور لاکٹ (ہار) کو جس پر قرآنی آیت یا حروفِ مقطعات لکھے ہوں پہننا حرام ہے۔

5۔ جنبی کا مسجد میں داخل ہونا حرام ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

وَجِّهُوْا هَذِهِ الْبُيُوْتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ.

ابوداؤد، السنن، کتاب الطهارة، باب فی الجنب يدخل المسجد، 1 : 98، رقم : 232

’’تم مسجد کی طرف سے گھروں کے دروازے بند کر دو کیونکہ میں حائض اور جنبی کے مسجد میں داخل ہونے کو حلال نہیں کروں گا۔‘‘

6۔ جنبی کا دینی کتابوں کو طہارت کے بغیر ہاتھ لگانا اور پکڑنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments