اوجڑی کھانے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:3488
فتاویٰ رشیدیہ اور فتاویٰ رضویہ میں حلال جانور کی اوجڑی کھانے کا کیا حکم ہے؟

  • سائل: محمد آصفمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 03 فروری 2015ء

زمرہ: خور و نوش

جواب:

فتاویٰ رشیدیہ میں اوجھڑی کھانا جائز قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فتاویٰ رشیدیہ کی عبارت میں واضح لکھا ہے ’’اوجھڑی کھانا حلال ہے‘‘۔

رشید احمد گنگوهی، فتاویٰ رشیدیه: 537، محمد علی کارخانه اسلامی کتب، خان محل، دستگیر کالونی کراچی

فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ’’اوجھڑی کھانا مکروہ ہے‘‘

امام احمد رضا خان، فتاویٰ رضویه، 20: 238، رضا فاؤنڈیشن، لاهور

یہ کراہت جو فتاویٰ رضویہ میں بیان ہوئی ہے یہ طبعی کراہت (ناپسندیدگی) ہے۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

حلال جانور کے مکروہ اعضاء کون سے ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟