کیا بدعقیدہ شخص کا جنازہ پڑھا جاسکتا ہے؟

سوال نمبر:3436
کیا کسی بدعقیدہ کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے؟

  • سائل: ساڈابمقام: بھارت
  • تاریخ اشاعت: 06 جنوری 2015ء

زمرہ: نماز جنازہ

جواب:

ہر کلمہ گو مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا اہلِ علاقہ پر فرضِ کفایہ ہے۔ اسلام میں صرف کافر کی نماز جنازہ نہیں ہے جبکہ مسلمان خواہ فاسق اور گناہ گار ہی کیوں نہ ہو، اس کی نماز جنازہ جائز ہے اور پڑھنی چاہیے۔ لیکن ایسا شخص خواہ مرد ہو یا عورت اگر اپنی بدعقیدگی کا کھلم کھلا اظہار کرے، خدا تعالیٰ یا اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی واضح گستاخیاں کرے یا اہلِ قبلہ کی تکفیر کر کے ان کے ساتھ قتال کرے توایسے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ مثلاً پاکستان میں دہشت گرد گروہ اہلِ قبلہ کی تکفیر کرتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔ یہ ان کا عقیدہ ہے جس کا اظہار وہ آئے روز اپنی زبان اور عمل دونوں سے کرتے ہیں۔ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟