نمازِ عشاء کی قضاء کیسے ادا کی جائے؟

سوال نمبر:3376
السلام علیکم! میں نمازِ عشاء کی قضائیں ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ عشاء کی نماز کے فرائض اور وتر اداء کرنے ہیں۔ میں فرض اور وتر کو ایک ساتھ ادا نہیں کر سکتا۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں عشاء کی قضاء نمازوں کے فرض الگ دن کو اداء کر لوں‌ اور وتر الگ دن؟ یا کیا ضروری ہے کہ جب عشاء کی قضاء پڑھی جائے گی تو فرض اور وتر اسی وقت اکٹھے اداء کرنا ہوں گے؟

  • سائل: سلیمان بیگمقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 29 نومبر 2014ء

زمرہ: نماز عشاء  |  نماز کی قضاء  |  نماز

جواب:

بہتر تو یہ ہے کہ عشاء کی قضاء نمازیں اداء کرتے وقت آپ فرائض اور واجب اکٹھے ہی ادا کریں۔ اس سے یہ شمار کرنا آسان ہو جائے گا کن ایام کی قضاء پڑھی جا چکی ہے اور کن ایام کی باقی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر قدرت نے قضائیں اداء کرنے کی توفیق عطا کی ہے تو کیوں نہ مکمل طور پر جلد از جلد اداء کر لی جائیں۔ یہی نہ ہو کہ ہم تیاری پکڑتے رہیں اور فرشتہ اجل آکر سلسلہ عمل منقطع کر دے۔

تاہم اگر آپ فرض اور وتر الگ الگ بھی اداء کرنا چاہتے ہیں، تو جائز ہے۔ لیکن پہلی صورت زیادہ مناسب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟