کیا بغیر گواہوں کے نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟

سوال نمبر:3373
السلام علیکم! کیا لڑکی لڑکے کا نکاح بغیر گواہوں کے ہو جاتا ہے؟ اگر لڑکا ورق پر لکھ دے کہ: میں نے تجھ سے نکا ح کیا، اور لڑکی قبول کر لے تو کیا حکم ہوگا؟

  • سائل: سفیانمقام: سرگودھا۔
  • تاریخ اشاعت: 01 دسمبر 2014ء

زمرہ: شہادت (گواہی)

جواب:

نکاح کے درست انعقاد کے لیے عاقل بالغ لڑکے لڑکی کی رضا مندی اور دو عاقل بالغ مسلمان گواہوں کی موجودگی میں بعوض حق مہر ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، ورنہ نکاح قائم نہیں ہوتا۔

آئمہ فقہاء فرماتے ہیں:

ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل و امرأتین ۔

دو مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا جب تک، دو آزاد ، عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ موجود ہوں۔

مرغینانی ، الهدایة شرح البدایة، 1: 190، المکتبة الاسلامیة

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجئے:

نکاح کے گواہان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟