Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سودی کروبار کرنے والے بینک کو عمارت کرایہ پر دینے کا کیا حکم ہے؟

سودی کروبار کرنے والے بینک کو عمارت کرایہ پر دینے کا کیا حکم ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد افضل مسعود       مقام: لاہور

سوال نمبر 3371:
السلام علیکم! ہمارے محلے میں کئی عمارات کرایہ کے لیے خالی ہیں، جن میں سے ایک میری بلڈنگ بھی ہے۔ میرا ذریعہ معاش اسی بلڈنگ کا کرایہ ہے۔ ایک بینک جو کہ اسلامک بینکنگ نہیں کرتا، میری بلڈنگ کرایہ پر لینے میں دلچسبی ظاہر کر رہا ہے۔ براہِ کرم بتائیے کہ کیا ایسے بینک کو بلڈنگ دی جاسکتی ہے؟

جواب:

سودی کاروبار کرنے والے بینک کو عمارت کرایہ پر دی جاسکتی ہے۔ اس کے وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجئے:

کیا بینک کو عمارت کرائے پر دی جا سکتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد ثناء اللہ طاہر

تاریخ اشاعت: 2014-11-29


Your Comments