کیا مدتِ ملازمت سے دوگنا پراویڈنٹ فنڈ لینا جائز ہے؟

سوال نمبر:3327

السلام علیکم! میں ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھاتا ہوں۔ ہماری تنخواہ میں سے پراویڈنٹ فنڈ کاٹا جاتا ہے، اور ساتھ یہ شرط لگائی ہے کے جو استاد تین سال یا اس سے زیادہ اس ادارے میں پڑھائے گا اس کا پراویڈنٹ فنڈ دوگنا کر کے دیا جائے گا۔ کیا تین سال بعد دوگنا فنڈ واپس لینا سود میں‌شمار ہوگا؟

یہ فنڈ تب ملے گا جب ہم جاب چھوڑ دیں گے۔

  • سائل: محمد افضلمقام: کامونکی
  • تاریخ اشاعت: 16 جولائی 2014ء

زمرہ: جی پی فنڈ/پراویڈنٹ فنڈ

جواب:

مسؤلہ صورت میں لیا گیا پراویڈنٹ فنڈ کا پیسہ سود میں شمار نہیں ہوگا، کیونکہ ملازمین کی تنخواہوں سے جو رقم کاٹی جارہی ہے وہ ایک طرح کا قرض ہے جو ملازمین ادارے کو دے رہے ہیں۔ قرض خواہ نے قرضہ دیتے وقت شرط نہیں لگائی کہ اتنی مدت کے بعد ہمیں اتنا اضافہ کرکے واپس دینا ہے بلکہ ادارے نے اپنی مرضی سے ایک آفر رکھی ہے کہ جو تین سال پڑھائے گا اس کے لیے اس فنڈ کا دوگنا دیا جائے گا۔ لہٰذا یہ سود نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟