Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مدتِ ملازمت سے دوگنا پراویڈنٹ فنڈ لینا جائز ہے؟

کیا مدتِ ملازمت سے دوگنا پراویڈنٹ فنڈ لینا جائز ہے؟

موضوع: جی پی فنڈ/پراویڈنٹ فنڈ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد افضل       مقام: کامونکی

سوال نمبر 3327:

السلام علیکم! میں ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھاتا ہوں۔ ہماری تنخواہ میں سے پراویڈنٹ فنڈ کاٹا جاتا ہے، اور ساتھ یہ شرط لگائی ہے کے جو استاد تین سال یا اس سے زیادہ اس ادارے میں پڑھائے گا اس کا پراویڈنٹ فنڈ دوگنا کر کے دیا جائے گا۔ کیا تین سال بعد دوگنا فنڈ واپس لینا سود میں‌شمار ہوگا؟

یہ فنڈ تب ملے گا جب ہم جاب چھوڑ دیں گے۔

جواب:

مسؤلہ صورت میں لیا گیا پراویڈنٹ فنڈ کا پیسہ سود میں شمار نہیں ہوگا، کیونکہ ملازمین کی تنخواہوں سے جو رقم کاٹی جارہی ہے وہ ایک طرح کا قرض ہے جو ملازمین ادارے کو دے رہے ہیں۔ قرض خواہ نے قرضہ دیتے وقت شرط نہیں لگائی کہ اتنی مدت کے بعد ہمیں اتنا اضافہ کرکے واپس دینا ہے بلکہ ادارے نے اپنی مرضی سے ایک آفر رکھی ہے کہ جو تین سال پڑھائے گا اس کے لیے اس فنڈ کا دوگنا دیا جائے گا۔ لہٰذا یہ سود نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2014-07-16


Your Comments